اہم خبریںتازہ تریندنیا

ایرانی جوہری تنصیبات پر امریکی حملہ، ایران کا شدید ردعمل — عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار

تہران / واشنگٹن: ایران کے خلاف اسرائیل کی جنگ میں امریکا کی شمولیت اور ایرانی جوہری تنصیبات پر حملے کے بعد خطے میں کشیدگی شدید ہو گئی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی کارروائی کو بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے سخت مذمت کی ہے۔

عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ "سلامتی کونسل کے مستقل رکن امریکا نے ایران کی پُرامن جوہری تنصیبات پر حملہ کر کے اقوامِ متحدہ کے چارٹر، بین الاقوامی قانون اور این پی ٹی (جوہری عدم پھیلاؤ معاہدہ) کی کھلی خلاف ورزی کی ہے۔”

ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ آج صبح ہونے والے واقعات نہایت افسوسناک، قابلِ مذمت اور عالمی امن کے لیے خطرناک ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ "یہ حملے صرف ایران پر نہیں، بلکہ بین الاقوامی نظام اور قانون کی بنیادوں پر حملہ ہیں، جن کے دور رس اور خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔”

انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ امریکا کے اس "غیر قانونی، مجرمانہ اور اشتعال انگیز طرزِ عمل” کے خلاف آواز بلند کرے۔ عباس عراقچی نے خبردار کیا کہ "ایران اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے تحت اپنی خودمختاری، قومی مفادات اور عوام کے دفاع کے لیے تمام آپشنز محفوظ رکھتا ہے۔”

پس منظر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج صبح سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر ایک بیان میں تصدیق کی کہ امریکی فضائیہ نے ایران کی تین جوہری تنصیبات—فردو، نطنز اور اصفحان—پر فضائی حملے کیے ہیں۔ ان کے مطابق فردو کی ایٹمی تنصیب مکمل طور پر تباہ کر دی گئی ہے۔

صدر ٹرمپ نے حملے کو کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ تمام طیارے بحفاظت وطن واپس پہنچ چکے ہیں اور دنیا کی کوئی اور فوج ایسی کارروائی انجام نہیں دے سکتی تھی۔

عالمی برداری میں بے چینی
امریکا کی اس کارروائی نے عالمی سطح پر بے چینی کو جنم دیا ہے، جہاں اقوامِ متحدہ، یورپی یونین اور دیگر بین الاقوامی ادارے ممکنہ انسانی اور سیاسی نتائج پر غور کر رہے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں جنگ کے پھیلاؤ کا خطرہ ایک بار پھر سر اٹھا رہا ہے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button