اہم خبریںپاکستانتازہ ترینلمحہ با لمحہ

نان فائلرز کے لیے کیش نکالنے کی حد میں اضافہ، معیشت کو دستاویزی بنانے کی جانب اہم قدم

اسلام آباد – جون 2025: وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2025-26 کے بجٹ میں نان فائلرز کے لیے کیش نکالنے کی حد 50 ہزار روپے سے بڑھا کر 75 ہزار روپے کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو مالیاتی شفافیت اور عوامی سہولت کے لیے ایک خوش آئند اقدام ہے۔

ٹیکس کی شرح میں معمولی اضافہ، مگر سہولت میں بڑا ریلیف
نظرثانی شدہ بجٹ تجاویز کے مطابق، 75 ہزار روپے سے زائد کی نقد رقم نکالنے پر اب 0.8 فیصد ایڈوانس ٹیکس عائد ہوگا، جو کہ موجودہ 0.6 فیصد سے تھوڑا زیادہ ہے۔ تاہم اس کے بدلے روزمرہ کی مالی ضروریات کے لیے کیش نکالنے کی حد میں 50% اضافہ عوام کے لیے ایک بڑا ریلیف ہے۔

"یہ فیصلہ قومی اسمبلی کی مالیاتی کمیٹی کی منظوری حاصل کر چکا ہے اور اسے رواں ہفتے بجٹ منظوری کے دوران شامل کیا جائے گا۔”

نان فائلرز کو فائلر بننے کی ترغیب
اس اقدام کا بنیادی مقصد غیر دستاویزی معیشت کو قانونی دائرے میں لانا اور نان فائلرز کو فائلر بننے کی ترغیب دینا ہے تاکہ ٹیکس نیٹ کو وسعت دی جا سکے اور ملک کی معاشی بنیادیں مزید مستحکم ہوں۔

ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور انکم ٹیکس میں بھی متوازن اصلاحات
حکومت نے اشتہاری آمدن حاصل کرنے والے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ٹیکس سخت کرنے کی تجویز دی ہے تاکہ بیرونی آمدن پر بھی ملک کو معقول ریونیو حاصل ہو سکے۔
اس کے ساتھ ساتھ، اعلیٰ آمدن والے افراد کے لیے انکم ٹیکس سرچارج میں 9 فیصد کمی کی توقع ہے، جو کاروباری طبقے اور سرمایہ کاروں کو مزید سہولت اور ترغیب فراہم کرے گی۔

ماہرین کی رائے: ایک متوازن اور مستقبل شناس بجٹ
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ:

"نان فائلرز کی نقد نکالنے کی حد میں اضافہ، عام شہریوں کے لیے سہولت کا باعث بنے گا، جبکہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کے لیے ایڈوانس ٹیکس میں اضافہ ایک معقول فیصلہ ہے۔”

شفافیت، سہولت اور اصلاحات—ایک قدم بہتر معیشت کی جانب

حکومت کے یہ اقدامات نہ صرف ٹیکس کلچر کو فروغ دینے کی جانب اشارہ کرتے ہیں بلکہ ایک ایسی معیشت کی بنیاد بھی رکھتے ہیں جو زیادہ شفاف، بااعتماد اور مستحکم ہو۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button