اہم خبریںدنیا

کابل میں پانی کی قلت پر عالمی رپورٹ، اہلِ پاکستان کے لیے اہم پیغام

کابل/اسلام آباد – عالمی فلاحی تنظیم "مرکری کور” کی تازہ تحقیقی رپورٹ میں ہوشربا انکشاف کیا گیا ہے کہ افغان دارالحکومت کابل پانی کی شدید قلت کا سامنا کر رہا ہے، اور اگر حالات یوں ہی رہے تو صرف پانچ سال بعد یہ دنیا کا پہلا جدید شہر بن سکتا ہے جہاں پانی مکمل طور پر ختم ہو جائے گا۔

پانی کی اہمیت اور بحران کی اصل وجہ
رپورٹ کے مطابق 2001 میں کابل کی آبادی محض 10 لاکھ تھی جو اب بڑھ کر 70 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی، کم بارشیں، اور منصوبہ بندی کا فقدان زیر زمین آبی ذخائر پر دباؤ کا سبب بنے ہیں۔ نتیجتاً، نصف سے زیادہ کنوئیں خشک ہو چکے ہیں اور باقی ماندہ پانی بھی گندگی و آلودگی کا شکار ہے۔

عبرت انگیز اعداد و شمار:
کابل کے شہریوں کی 30 فیصد آمدنی صرف پانی خریدنے پر خرچ ہو رہی ہے۔

بچے کھچے زیر زمین پانی میں سیوریج کا آلودہ پانی شامل ہو چکا ہے، جس سے وبائی امراض پھوٹنے کا خطرہ ہے۔

پاکستان کے لیے ایک سنہری موقع:
یہ صورتحال اہلِ پاکستان کے لیے ایک وارننگ اور موقع دونوں ہے۔ ہم آج بھی پانی جیسی نعمت سے فیضیاب ہیں، لیکن اگر ہم نے دانشمندی نہ دکھائی تو یہی خطرہ ہمارے دروازے پر بھی دستک دے سکتا ہے۔

کیا کیا جا سکتا ہے؟
پانی کے ضیاع کو روکنے کے لیے قومی سطح پر مہمات

گھریلو سطح پر پانی کی بچت کے آسان اقدامات

اسکولوں، کالجوں، اور مساجد میں پانی کے شعور کی تربیت

حکومت کی جانب سے زیر زمین پانی کی سطح کی نگرانی اور آبی ذخائر کی بحالی

نتیجہ:

کابل کی صورتحال ایک سبق، ایک تنبیہ اور ایک موقع ہے۔ اگر ہم آج سے پانی کو بطور نعمت سمجھ کر اس کی قدر کریں، تو نہ صرف اپنے آنے والے کل کو محفوظ بنا سکتے ہیں بلکہ اس عظیم قدرتی عطیہ کے تحفظ میں دنیا کے لیے مثال بھی قائم کر سکتے ہیں۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button