تہران/تل ابیب – مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران ایران نے "آپریشن وعدہ صادق سوم” کے تحت اسرائیل پر میزائل حملوں کی دسویں لہر کا آغاز کر دیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ حملے اسرائیل کی جانب سے ایرانی شہریوں اور اہم تنصیبات پر کیے گئے مبینہ حملوں کے ردعمل میں کیے جا رہے ہیں۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان نے بیان میں کہا کہ "اگر کوئی تم پر حملہ کرے، تو تم بھی اسی انداز سے جواب دو”، اور سورہ البقرہ کی آیت سے اپنا پیغام شروع کرتے ہوئے واضح کیا کہ ایران کی کارروائیاں مکمل دفاعی اور جوابی حکمت عملی کا حصہ ہیں، اور یہ حملے بتدریج جاری رہیں گے۔
اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے کم از کم 20 میزائل داغے گئے، جن میں سے کئی تل ابیب، یروشلم اور شیرون کے علاقوں میں گرے۔ مقامی ذرائع نے ان شہروں میں دھماکوں کی آوازیں سننے کی بھی تصدیق کی ہے۔ اسرائیلی ہوم فرنٹ کمانڈ نے فوری طور پر سیکیورٹی الرٹ جاری کرتے ہوئے عوام کو احتیاطی تدابیر اپنانے کی ہدایت کی ہے۔
ایرانی ترجمان کا کہنا تھا کہ ان حملوں کا نشانہ وہ مخصوص اسرائیلی فضائی اڈے بنے جو ایران کے مطابق دہشت گرد کارروائیوں میں استعمال کیے جا رہے تھے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ ایران خطے میں امن کا خواہاں ہے، لیکن ملکی خودمختاری اور شہریوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
خطے میں صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے، اور عالمی طاقتیں اس ممکنہ وسیع تنازعے کو روکنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر رہی ہیں۔ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں نے فریقین سے تحمل اور مذاکرات پر زور دیا ہے۔






