تہران (عالمی خبر رساں ادارہ) — ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی ایرو اسپیس فورس نے اسرائیل کے خلاف جدید ترین خودکش ڈرونز "شاہد 107” کے استعمال کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق یہ ڈرونز انتہائی جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہیں اور مخصوص اہداف کو انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق "شاہد 107” میں ایسا جدید انجن نصب ہے جو اسے 1500 کلومیٹر کی بلندی پر پرواز کرنے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے، جو کہ خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ایک بڑی دفاعی و تکنیکی پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حال ہی میں اسی طرز کا ایک ڈرون اسرائیل کے ایرو-3 ایئر ڈیفنس سسٹم کی طرف بڑھتے ہوئے دیکھا گیا، جس کے بعد ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کی ڈرون ٹیکنالوجی اب خطے کے طاقتور دفاعی نظاموں کو بھی چیلنج کرنے کے قابل ہو چکی ہے۔
ایران کے اس اعلان کے فوراً بعد اطلاعات ہیں کہ اسرائیل پر ایک اور بڑا میزائل حملہ کیا گیا ہے، جس کے باعث مشرق وسطیٰ میں صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔ تاحال حملے کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں، تاہم دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے آثار واضح ہیں۔
ایران کی جانب سے ڈرونز کے اس عملی استعمال کو نہ صرف ایک تکنیکی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے بلکہ اس سے خطے میں فوجی توازن اور دفاعی حکمت عملیوں پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
عالمی برادری کی نظریں اس وقت ایران اور اسرائیل کے مابین جاری کشیدگی پر جمی ہوئی ہیں، جہاں ہر نیا قدم ایک ممکنہ بڑے تنازعے کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔





