حیدرآباد (سیاسی رپورٹر) — جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ایران پر اسرائیلی حملے صرف قابل مذمت نہیں بلکہ اسلامی دنیا کو متحد ہو کر ایک مؤقف اپنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں اعلان کیا کہ "ہم ایران کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں”۔
مولانا فضل الرحمان حیدرآباد میں منعقدہ ملین مارچ سے خطاب کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ:
"ہم جنگ کے حامی نہیں، امن کے داعی ہیں۔ لیکن اگر امت مسلمہ پر حملہ ہو، تو خاموشی ظلم کا ساتھ دینے کے مترادف ہے۔”
🔹 جمعیت کا قیامِ امن کے لیے عزم
مولانا نے کہا کہ سندھ اور اس کے عوام بدامنی سے پریشان ہیں، اور یہ امن ہی ہے جو معیشت، تعلیم اور کاروبار کی بنیاد ہے۔
انہوں نے اس موقع پر اعلان کیا:
"جمعیت علمائے اسلام کا ایک ایک کارکن امن قائم کرنے کے لیے میدانِ عمل میں ہے۔ ہم نے سندھ میں بھی امن قائم کرنا ہے، اور مسلم دنیا میں بھی۔”
🔹 فلسطین، غزہ اور اقوام متحدہ پر دوٹوک مؤقف
اپنے خطاب میں انہوں نے اسرائیل کی طرف سے غزہ میں ہونے والی بمباری اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا:
"نیتن یاہو جنگی مجرم ہے، عالمی عدالت نے حکم جاری کیا ہے، لیکن امریکا اور یورپ خاموش ہیں۔ اقوام متحدہ آج انصاف کی علامت نہیں بلکہ طاقتوروں کا آلہ کار بن چکی ہے۔”
انہوں نے سوال کیا:
"کیا 60 ہزار بے گناہ فلسطینیوں کا قتل انسانیت کے خلاف جرم نہیں؟”
🔹 ایران کے ساتھ یکجہتی کا اعلان
مولانا فضل الرحمان نے زور دے کر کہا:
"اگر آج ایران کی باری ہے، تو کل سعودی عرب یا پاکستان بھی نشانے پر ہو سکتا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ "مسجد اقصیٰ ہو یا حرمین، اگر کسی نے میلی آنکھ سے دیکھا تو ہر مسلمان اپنا خون دینے کو تیار ہے۔”
انہوں نے اپنی تقریر کا اختتام ان الفاظ پر کیا:
"ہم ایران پر حملے کی صرف مذمت نہیں کر رہے، بلکہ ایران کے ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان کر رہے ہیں۔ یہ وقت اسلامی اتحاد اور عملی یکجہتی کا ہے۔”





