لاہور – 14 جون: جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی مجلس شوریٰ نے ایک تاریخی اور اصولی قرارداد منظور کرتے ہوئے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ ایران کی سلامتی اور دفاع کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے۔
اجلاس کی صدارت امیر جماعت حافظ نعیم الرحمٰن نے کی، جس میں ملک بھر سے منتخب اراکین شریک ہوئے۔ تین روزہ اجلاس کے دوران ایران پر اسرائیل کے حالیہ حملے کو بلاجواز، غیر قانونی اور خطے کے امن کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے اس کی سخت مذمت کی گئی۔
اسلامی دنیا کے اتحاد پر زور
قرارداد میں اسلامی ممالک سے اپیل کی گئی کہ وہ اپنے داخلی اختلافات کو پس پشت ڈال کر اسرائیل کے خلاف متحدہ اور مضبوط مؤقف اپنائیں تاکہ مشرق وسطیٰ میں اسرائیلی توسیع پسندی کا راستہ روکا جا سکے۔
"اسرائیلی جارحیت کا علاج صرف اتحادِ امت میں ہے،” اجلاس میں کہا گیا۔
ایران کے ساتھ مکمل یکجہتی
جماعت اسلامی نے ایران کی عوام اور حکومت کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ ایران صرف ایک ملک نہیں، بلکہ امت مسلمہ کا ایک مضبوط قلعہ ہے۔ قرارداد میں حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ایران کے دفاع میں ہر قسم کی سیاسی، اخلاقی اور ممکنہ عملی مدد فراہم کرے۔
اسرائیل کو ناجائز ریاست قرار
قرارداد میں اسرائیل کو ایک ناجائز اور جارح ریاست قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ اس کے عزائم صرف فلسطین یا ایران تک محدود نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے ناسور بن چکے ہیں۔
یہ قرارداد نہ صرف امت مسلمہ کے اتحاد کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے بلکہ عالمی برادری کے سامنے ایک واضح اور باوقار پیغام بھی دیتی ہے کہ پاکستان کی مذہبی و سیاسی قیادت ظلم و جبر کے خلاف ہر حال میں مظلوموں کے ساتھ کھڑی ہے۔






