ایران اسرائیل تنازع: امریکہ کا سلامتی کونسل میں مؤقف، ’’اسرائیل کا حملہ دفاع کے لیے ضروری تھا‘‘
نیویارک – 14 جون 2025
ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ہونے والے خصوصی اجلاس میں امریکہ نے اپنا واضح مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’اسرائیل کا ایران پر حملہ اپنے دفاع کے لیے ضروری اقدام تھا‘‘۔
امریکی نمائندے نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ اسرائیل نے یہ قدم ایران کی بڑھتی ہوئی جارحیت کے ردعمل میں اٹھایا ہے اور امریکہ اسرائیل کے دفاع کے حق کو تسلیم کرتا ہے۔
امریکا نے ایران کو سنگین نتائج سے خبردار کر دیا
امریکہ نے ایران کو متنبہ کیا ہے کہ اگر ایران نے امریکی شہریوں، فوجی اڈوں یا دیگر بنیادی تنصیبات کو نشانہ بنایا تو سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ امریکی بیان میں کہا گیا:
"ہم کسی بھی براہ راست حملے کا مؤثر اور فوری جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔ امریکہ اپنے شہریوں اور مفادات کے تحفظ سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔”
جوہری ہتھیاروں پر امریکی تشویش
سلامتی کونسل میں خطاب کے دوران امریکی مندوب نے ایران کے جوہری پروگرام پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ:
"ہماری کوشش ہے کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔ اس ہدف کے حصول کے لیے سفارتی، سیاسی اور سکیورٹی سطح پر تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔”
امریکا حملے میں شامل نہیں، پیشگی اطلاع دی گئی تھی
امریکی نمائندے نے وضاحت کی کہ اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حالیہ حملوں سے امریکہ کو پہلے ہی آگاہ کر دیا گیا تھا، تاہم:
"امریکہ ان حملوں میں کسی طور ملوث نہیں ہے۔ یہ فیصلہ اسرائیل نے خود مختار ریاست کے طور پر خود کیا ہے۔”
مذاکرات کا مشورہ
امریکی نمائندے نے ایران کی قیادت پر زور دیا کہ وہ موجودہ کشیدہ صورتحال میں دانشمندی کا مظاہرہ کرے اور مذاکرات کا راستہ اپنائے۔ ان کے مطابق:
"مذاکرات ہی واحد راستہ ہیں جو مشرق وسطیٰ میں امن، استحکام اور خطے کے عوام کی سلامتی کو یقینی بنا سکتے ہیں۔”





