اہم خبریںپاکستانلمحہ با لمحہ

کارپوریٹ سیکٹر اور رئیل اسٹیٹ کے لیے خوشخبری: بجٹ 2025-26 میں ٹیکسوں میں کمی اور ریلیف کا اعلان

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے مالی سال 2025-26 کے بجٹ میں کارپوریٹ سیکٹر، پراپرٹی سرمایہ کاروں اور عام شہریوں کو بڑا ریلیف دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ نئے بجٹ میں کمرشل جائیدادوں، گھروں اور پلاٹوں کی خرید و فروخت پر عائد مختلف ٹیکسز میں کمی اور بعض میں مکمل خاتمے کا اعلان کیا گیا ہے، جس سے کاروباری سرگرمیوں میں تیزی آنے کی توقع ہے۔

اہم ریلیف اقدامات درج ذیل ہیں:
✅ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کا خاتمہ:
کمرشل جائیداد، پلاٹ اور گھروں کی ٹرانسفر پر عائد 7 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی مکمل طور پر ختم کر دی گئی ہے۔

✅ ودہولڈنگ ٹیکس میں نمایاں کمی:

پہلا سلیب: 4 فیصد سے کم کر کے 2.5 فیصد

دوسرا سلیب: 3.5 فیصد سے کم کر کے 2 فیصد

تیسرا سلیب: 3 فیصد سے کم کر کے 1.5 فیصد

✅ سپر ٹیکس میں نرمی:
سالانہ 20 کروڑ سے 50 کروڑ روپے آمدنی والے کاروباری اداروں کے لیے 0.5 فیصد سپر ٹیکس میں کمی کی تجویز دی گئی ہے۔

✅ رہائشی یونٹس پر ٹیکس کریڈٹ:
10 مرلہ تک کے گھروں اور 2000 مربع فٹ کے فلیٹس پر ٹیکس کریڈٹ دیا جائے گا، جو مڈل کلاس کی ہوم فنانسنگ میں معاون ثابت ہوگا۔

✅ اسلام آباد میں اسٹامپ ڈیوٹی میں کمی:
اسلام آباد میں جائیداد کی خریداری پر اسٹامپ پیپر ڈیوٹی 4 فیصد سے کم کر کے صرف 1 فیصد کر دی گئی ہے۔

حکومت کا وژن: تعمیراتی صنعت کو فروغ، کاروبار میں آسانی
حکومت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد رئیل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا، ہاؤسنگ سیکٹر کو سپورٹ کرنا اور کاروباری طبقے کے لیے آسانیاں پیدا کرنا ہے۔ مورگیج فنانسنگ کو فروغ دینے کے لیے مزید اقدامات بھی متوقع ہیں۔

کاروباری برادری کے لیے مثبت اشارے
ماہرین کے مطابق یہ فیصلے کاروباری اعتماد میں اضافہ کریں گے، تعمیراتی اور پراپرٹی سیکٹر کو نئی زندگی ملے گی، اور روزگار کے مواقع بھی بڑھیں گے۔ یہ بجٹ ایک متوازن اور ترقیاتی سمت کا مظہر ہے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button