اہم خبریںپاکستانتازہ ترین

پاکستان کی معیشت درست سمت میں، مہنگائی پر قابو، پالیسی ریٹ میں نمایاں کمی: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اقتصادی سروے 2024-25 پیش کرتے ہوئے قوم کو خوشخبری دی ہے کہ پاکستان کی معیشت بحالی کی جانب گامزن ہے، مہنگائی پر قابو پا لیا گیا ہے، جبکہ معاشی اشاریے بتدریج بہتری کی نشان دہی کر رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ملکی مہنگائی کی شرح کم ہوکر 4.6 فیصد پر آگئی ہے، جو پچھلے سال 29 فیصد کی بلند ترین سطح پر تھی۔ پالیسی ریٹ میں نمایاں کمی کرتے ہوئے اسے 22 فیصد سے کم کر کے 11 فیصد کر دیا گیا ہے، جس سے سرمایہ کاری کو فروغ اور عوامی ریلیف کی امیدیں وابستہ کی جا رہی ہیں۔

معاشی گروتھ اور ترقی کا نیا سفر
وزیر خزانہ نے بتایا کہ رواں مالی سال جی ڈی پی گروتھ 2.7 فیصد رہی ہے، جب کہ دو سال قبل معیشت منفی گروتھ کا شکار تھی۔ انہوں نے کہا کہ ’’اب معیشت کا ڈی این اے بدلنے جا رہے ہیں‘‘ اور اس کے لیے اسٹرکچرل ریفارمز پر عمل کیا جا رہا ہے۔

انرجی سیکٹر میں اصلاحات کے تحت ڈیسکوز کے بورڈ نجی شعبے کو سونپے جا چکے ہیں، جب کہ 1.27 ٹریلن روپے کے گردشی قرضے کے حل کے لیے بھی عملی پیش رفت ہوئی ہے۔

ٹیکس ریفارمز اور محصولات میں ریکارڈ اضافہ
محمد اورنگزیب نے بتایا کہ جولائی سے مئی کے دوران ٹیکس محصولات میں 26 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ انکم ٹیکس فائلرز کی تعداد 37 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔ ہائی ویلیو فائلرز میں 178 فیصد اضافہ خوش آئند ہے۔

ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح پانچ سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے، اور حکومت کا ہدف ہے کہ اسے 14 فیصد تک لے جایا جائے، جبکہ ہمسایہ ملک بھارت میں یہ شرح 18 فیصد ہے۔

ترسیلات زر اور زرمبادلہ میں نمایاں بہتری
ترسیلات زر میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، اور توقع ہے کہ رواں مالی سال کے اختتام پر یہ 38 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گی۔ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کی تعداد بھی 8 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، جو بیرون ملک پاکستانیوں کے اعتماد کی عکاسی ہے۔

صنعت، زراعت اور خدمات کے شعبوں میں ترقی
معاشی سروے کے مطابق:

صنعتی شعبے کی گروتھ 4.8 فیصد رہی

خدمات کے شعبے نے 2.9 فیصد کی شرح سے ترقی کی

انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن میں 6.5 فیصد اضافہ ہوا

کنسٹرکشن اور رئیل اسٹیٹ میں 3.5 فیصد اور فوڈ سروسز میں 4.1 فیصد کی نمو ریکارڈ ہوئی

زراعت میں 0.6 فیصد جب کہ لائیو اسٹاک میں 4.7 فیصد اضافہ ہوا

پبلک سیکٹر ریفارمز اور کفایت شعاری
وفاقی وزیر خزانہ نے بتایا کہ حکومت نے 43 وزارتوں اور 400 سے زائد محکموں کی رائٹ سائزنگ کا آغاز کر دیا ہے، جس سے حکومتی اخراجات میں نمایاں کمی اور کارکردگی میں بہتری کی توقع ہے۔

قومی سلامتی کے ساتھ معاشی سکیورٹی بھی اولین ترجیح
انہوں نے کہا کہ جیسے افواج پاکستان نے بھارت کو دفاعی محاذ پر منہ توڑ جواب دیا، ویسے ہی پاکستان نے معاشی میدان میں بھی دشمنوں کی کوششوں کو ناکام بنایا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آئی ایم ایف بورڈ میں بھارت کی مخالفت کے باوجود پاکستان کے کیس کو کامیابی سے پیش کیا گیا۔

آگے کا راستہ: مقامی وسائل اور پائیدار ترقی
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ قرضوں کی مجموعی شرح جی ڈی پی کے مقابلے میں 65 فیصد تک کم کر لی گئی ہے۔ حکومت مستقبل میں اپنی شرائط پر قرض لے گی اور مقامی سرمایہ کاروں کو ترجیح دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ "معاشی خود انحصاری ہی قومی خود مختاری کی ضمانت ہے۔”

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button