واشنگٹن — چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں پاکستانی وفد نے دورۂ نیویارک مکمل کرنے کے بعد واشنگٹن پہنچ کر اپنی سفارتی سرگرمیوں کا نیا مرحلہ شروع کر دیا ہے۔
پاکستانی وفد، جس میں بلاول بھٹو سمیت نو ارکان شامل ہیں، ٹرین کے ذریعے نیویارک سے واشنگٹن پہنچا، جہاں ریلوے اسٹیشن پر پاکستانی سفارت خانے کے سینئر سفارتی عملے نے پرتپاک استقبال کیا۔
ذرائع کے مطابق وفد 6 جون تک واشنگٹن میں قیام کرے گا اور اس دوران امریکی حکام، تھنک ٹینکس اور میڈیا نمائندگان سے ملاقاتیں کرے گا، جن میں پاکستان کا مؤقف پیش کیا جائے گا۔
کشمیر، آبی جارحیت اور علاقائی امن پر توجہ
اپنے دورے کے دوران بلاول بھٹو بھارت کی آبی جارحیت اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر امریکی حکام کو آگاہ کریں گے۔ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کی ماضی کی پیشکش پر اظہارِ تشکر بھی کریں گے اور زور دیں گے کہ اس مسئلے کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق نکالا جائے۔
بلاول بھٹو کی طرف سے یہ مطالبہ کیا جائے گا کہ عالمی برادری، خصوصاً امریکا، جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے بھارت پر اپنا کردار ادا کرے تاکہ انسانی حقوق کی پامالی کا خاتمہ ہو۔
نیویارک میں اہم ملاقاتیں
وفد نے نیویارک میں اقوام متحدہ کے اعلیٰ حکام سے بھی ملاقاتیں کیں، جن میں یو این سیکریٹری جنرل، صدر جنرل اسمبلی، سلامتی کونسل کے منتخب اراکین اور او آئی سی کے سفیروں کے ساتھ ملاقاتیں شامل تھیں۔ ان ملاقاتوں میں عالمی مسائل، خصوصاً پاکستان کے علاقائی مؤقف اور ترقیاتی اہداف پر بات چیت کی گئی۔






