مکہ مکرمہ: دنیا بھر سے آئے لاکھوں خوش نصیبوں کی زبان پر "لبیک اللّٰہم لبیک” کی صداؤں کے ساتھ مناسکِ حج 1446ھ کا روح پرور آغاز آج 8 ذوالحجہ کو ہو گیا ہے۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کے عازمینِ حج منیٰ کی جانب روانہ ہو رہے ہیں، جہاں وہ دنیا کی سب سے بڑی خیمہ بستی میں عبادات، دعا اور استغفار میں یہ دن گزاریں گے۔
سعودی حکام کے مطابق اس سال 20 لاکھ سے زائد عازمینِ حج کی شرکت متوقع ہے، جن میں مقامی اور دنیا بھر سے آئے ہوئے فرزندانِ توحید شامل ہیں۔
کل 9 ذوالحجہ کو حجاج کرام وقوفِ عرفہ کے لیے میدانِ عرفات روانہ ہوں گے، جہاں مسجد نمرہ میں امام کعبہ شیخ صالح بن عبداللہ بن حمید خطبہ حج دیں گے اور نمازِ ظہر و عصر کی امامت کریں گے۔
انتظامات انتہائی سخت، سہولیات انتہائی جامع
مناسکِ حج کے دوران منیٰ، عرفات اور مزدلفہ میں حجاج کرام کی صحت و سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔
فیلڈ اسپتال، ڈسپنسریاں اور عارضی کلینکس قائم کر دیے گئے ہیں
سعودی وزارتِ صحت کی جانب سے 8 ایئر ایمبولینس تیار حالت میں موجود ہیں
پاکستان حج مشن نے مخصوص مکاتب میں پاکستانی حجاج کے لیے طبی سہولیات مہیا کی ہیں
سیکیورٹی کا فول پروف نظام
حجاج کرام کی حفاظت کے لیے 40 ہزار فوجی جوان اور 30 ہزار پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔
فضائی نگرانی کے لیے رائل سیکیورٹی فورسز کے ہیلی کاپٹرز مکہ اور مشاعر مقدسہ پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
غیر قانونی حج کی روک تھام میں سخت اقدامات
سعودی حکومت نے اس سال غیر قانونی طریقے سے حج کی کوشش کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی ہے۔
اب تک 2 لاکھ 70 ہزار سے زائد افراد کو مکہ مکرمہ میں داخل ہونے سے روکا گیا ہے، جن کے خلاف جرمانے، قید اور ملک بدری جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔






