اسلام آباد: ملک کی معاشی ترقی اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے حکومت نے آئندہ مالی سال 2025-26 کے لیے قومی ترقیاتی بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ کرنے کا عندیہ دے دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق قومی ترقیاتی بجٹ تقریباً 4 ہزار ارب روپے تک مقرر کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (PSDP) کے تحت ایک ہزار ارب روپے مختص کیے جانے کی تجویز دی گئی ہے، جس کی منظوری سالانہ پلان کوآرڈینیشن کمیٹی پہلے ہی دے چکی ہے۔ اس رقم سے وفاقی اور صوبائی سطح پر ترقیاتی منصوبوں میں سرمایہ کاری کی جائے گی، جن میں مواصلات، توانائی، صحت، تعلیم اور پانی کے منصوبے شامل ہوں گے۔
سالانہ پلان کوآرڈینیشن کمیٹی نے آئندہ مالی سال کے لیے جی ڈی پی گروتھ کا ہدف 4.2 فیصد اور افراط زر کا ہدف 7.5 فیصد مقرر کرنے کی منظوری بھی دی ہے، جو کہ ملکی معیشت کے استحکام اور بہتری کی جانب مثبت اشارہ ہے۔
ذرائع کے مطابق قومی اقتصادی کونسل جلد ان اہداف کا تفصیلی جائزہ لے کر ان پر حتمی منظوری دے گی۔ اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف کی صدارت میں گلگت بلتستان سمیت چاروں وزرائے اعلیٰ اور متعلقہ صوبائی نمائندے شریک ہوں گے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اتنے بڑے ترقیاتی بجٹ کی منظوری سے نہ صرف روزگار کے مواقع بڑھیں گے بلکہ معاشی سرگرمیوں کو بھی نئی رفتار ملے گی، جو کہ ملک کے عوام کے لیے ایک خوش آئند خبر ہے۔






