راولپنڈی: پاکستان کی مسلح افواج کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی، جنرل ساحر شمشاد مرزا نے کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے دوران پاکستان نے کسی بیرونی مدد کے بغیر اپنے تمام وسائل پر انحصار کیا ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں جنرل ساحر شمشاد نے واضح کیا کہ بھارت کے ساتھ تنازع کے ابتدائی 96 گھنٹوں میں جو بھی کارروائیاں ہوئیں، وہ مکمل طور پر پاکستان کی خود مختاری اور ملکی صلاحیتوں کی بدولت ممکن ہوئیں۔
چین کی جانب سے مدد کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ پاکستان نے جو جدید آلات اور ٹیکنالوجی استعمال کی وہ بھارت کے برابر ہیں۔ اگرچہ پاکستان نے کچھ ساز و سامان دیگر ممالک سے خریدا ہے، مگر حقیقی وقت میں ملکی اندرونی صلاحیتوں پر ہی مکمل انحصار کیا گیا اور کہیں سے کوئی مدد حاصل نہیں کی گئی۔
یہ بیان پاک بھارت کشیدگی کے پس منظر میں آیا ہے، جس میں بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے پہلگام واقعے کو جواز بنا کر سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل کیا اور پاکستان کے مختلف علاقوں پر میزائل داغے۔ پاکستانی فوج نے نہ صرف ان حملوں کا بھرپور جواب دیا بلکہ بھارت کے 3 رافیل طیارے سمیت 6 لڑاکا طیارے مار گرائے اور اہم فوجی مراکز کو نشانہ بنایا۔
بھارتی حملوں کے جواب میں پاکستان نے "آپریشن بنیان مرصوص” شروع کیا، جس نے بھارت کی جارحیت کو شکست دی۔ بھارتی شکست کے بعد، بھارت نے امریکہ اور دیگر اتحادیوں سے جنگ بندی کی درخواست کی، جس کے نتیجے میں دونوں ملکوں نے فائر بندی کا معاہدہ کیا۔
چیئرمین جوائنٹ چیفس جنرل ساحر شمشاد کے اس موقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان اپنی دفاعی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد رکھتا ہے اور کسی بھی چیلنج کا بھرپور مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔






