تہران: ایران نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کی حالیہ رپورٹ کو سیاسی، جانبدار اور غیر پیشہ ورانہ قرار دیتے ہوئے اس پر شدید احتجاج کیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ رپورٹ عالمی اداروں کے غیرجانبدارانہ طرز عمل اور پیشہ ورانہ تقاضوں کے برخلاف ہے۔
IAEA کی دستاویز میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران نے 60 فیصد افزودہ یورینیم کی پیداوار میں تیزی دکھائی ہے اور ادارے سے تعاون کو "اطمینان بخش سے کم” قرار دیا گیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ نے ردعمل میں واضح کیا کہ ایران کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے اور اس کی تمام سرگرمیاں IAEA کی نگرانی میں اور مکمل شفافیت کے ساتھ انجام دی جا رہی ہیں۔ ترجمان نے زور دیا کہ ایران کے ملٹری ڈاکٹرائن میں ایٹمی ہتھیاروں کی کوئی گنجائش نہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ سمیت عالمی قوانین کے مطابق پرامن جوہری ٹیکنالوجی کے حصول پر کوئی پابندی نہیں، اور ایران کی تمام جوہری تنصیبات اور سرگرمیاں پہلے سے ظاہر کردہ اور کھلی ہیں۔
ایران نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سیاسی اثر و رسوخ سے آزاد ہو کر بین الاقوامی اداروں کے کردار کو غیرجانبدار اور پیشہ ورانہ رکھنے میں کردار ادا کرے۔






