اسلام آباد: وزیرِاعظم شہباز شریف کے سیاسی مشیر اور وفاقی وزیر رانا ثناءاللہ نے معروف ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو "ہیرو” ماننے سے انکار کرتے ہوئے ایک نیا سیاسی و قومی مباحثہ چھیڑ دیا ہے۔
نجی ٹی وی چینل کے ساتھ گفتگو میں رانا ثناءاللہ نے کہا کہ "ڈاکٹر اے کیو خان کو ہیرو نہیں کہا جا سکتا، ہیرو وہ ہوتا ہے جس نے ایٹمی دھماکے کیے اور پاکستان کو عملی طور پر ایٹمی طاقت بنایا۔” ان کے مطابق اس تاریخی عمل کا آغاز سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے کیا تھا، جبکہ فیصلہ کن کردار سابق وزیراعظم نواز شریف کا تھا، جن کے دورِ حکومت میں پاکستان نے ایٹمی دھماکے کیے۔
رانا ثناءاللہ نے وضاحت کی کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ان کے سائنسی کردار کا کریڈٹ ضرور دیا جانا چاہیے، مگر وہ لیڈر نہیں تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "ایٹم بم بنانا کئی ممالک نے سیکھ لیا، مگر دھماکے کرنا ایک جرات مندانہ فیصلہ تھا جو وزیراعظم نواز شریف نے کیا۔”
⚖️ اسٹیبلشمنٹ کا مؤقف اور سیاسی مذاکرات
گفتگو کے دوران رانا ثناءاللہ نے ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر بھی روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ کا مؤقف واضح ہے اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے بھی یہی مؤقف اختیار کیا ہے کہ سیاسی مذاکرات صرف سیاسی جماعتوں کے درمیان ہونے چاہییں۔
انہوں نے سابق وزیراعظم عمران خان کو مشورہ دیا کہ اسٹیبلشمنٹ سے بات کرنے کے بجائے نواز شریف اور آصف علی زرداری سے مذاکرات کریں۔ ان کے مطابق، "اگر عمران خان حکومت کو ہر چیز کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں تو پھر انہیں حکومت سے ہی بات بھی کرنا ہوگی۔”
🗣️ عمران خان پر تنقید
رانا ثناءاللہ نے سابق وزیراعظم عمران خان پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "ان کا سیاسی فلسفہ صرف اسٹیبلشمنٹ کے ذریعے دوبارہ اقتدار میں آنا ہے۔” ان کے مطابق، عمران خان کی یہ حکمت عملی انہیں کامیابی سے دور لے جا رہی ہے۔





