اہم خبریںپاکستانتازہ ترین

صدر زرداری: دباؤ کے طوفان میں بھی قیادت کا استقامت بھرا کردار

اسلام آباد – پاکستان کی سیاسی تاریخ کے ایک اہم اور نازک موڑ پر، صدر آصف علی زرداری نے اپنے مضبوط اعصاب، قائدانہ بصیرت اور وفاداری کے اعلیٰ معیار کا عملی مظاہرہ کیا۔ سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر کی حالیہ کتاب "دی زرداری پریزیڈنسی” میں ایسے انکشافات سامنے آئے ہیں جو اس وقت کی قیادت کے غیرمعمولی دباؤ اور سیاسی چیلنجز کا عکس پیش کرتے ہیں۔

کتاب کے مطابق، اکتوبر 2011ء میں میمو گیٹ اسکینڈل کے دوران سیاسی اور عسکری کشیدگی اپنے عروج پر تھی۔ اسی دوران صدر زرداری کی صحت بگڑ گئی، لیکن اس مشکل وقت میں بھی انہوں نے اپنے قریبی ساتھیوں کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ صدر زرداری نے اپنے وفادار ساتھی حسین حقانی کی سیکیورٹی کو اپنی صحت سے بھی مقدم رکھا اور ان کے بغیر ملک سے باہر جانے سے انکار کر دیا۔

صدر زرداری کے بیٹے بلاول بھٹو زرداری نے اس نازک موقع پر والد کے علاج کیلئے دبئی جانے کا مشورہ دیا، لیکن صدر کی حالت اور ملک کی سیاسی فضا کو دیکھتے ہوئے تمام فیصلے نہایت احتیاط اور حکمت عملی سے کیے گئے۔ ڈاکٹر عاصم حسین نے فوری طور پر طبی امداد فراہم کی اور صدر زرداری کی زندگی کو محفوظ رکھنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ صدر زرداری نے ایک ایسے وقت میں سیاسی تدبر اور وفاداری کا مظاہرہ کیا جب ریاست کے تمام ادارے کشیدگی کا شکار تھے۔ ان کی قیادت نے یہ ثابت کیا کہ سیاست صرف طاقت کا کھیل نہیں بلکہ مشکل وقت میں لوگوں کے ساتھ کھڑے رہنا بھی ایک عظیم قائد کی پہچان ہے۔

یہ داستان صرف ایک صدر کی صحت کے مسائل کی نہیں، بلکہ اس بات کی گواہی ہے کہ زرداری نے ذاتی مشکلات اور سیاسی دباؤ کے باوجود اپنے اصولوں، ساتھیوں اور ذمہ داریوں سے منہ نہیں موڑا۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button