اسلام آباد: عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے آئندہ مالی سال 2025-26 کے بجٹ کے لیے جامع تجاویز پیش کر دی ہیں، جن کا مقصد ٹیکس نظام میں بہتری، معیشت میں شفافیت اور پائیدار ترقی کو یقینی بنانا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے اور نادہندگان کے خلاف مؤثر کارروائی کی سفارش کی ہے، تاکہ پاکستان میں ٹیکس کمپلائنس کو فروغ دیا جا سکے۔
ٹیکنالوجی کا زیادہ سے زیادہ استعمال، شفافیت میں اضافہ
آئی ایم ایف نے حکومت پاکستان پر زور دیا ہے کہ ٹیکس چوری کی روک تھام کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں اضافہ کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ ٹیکس حکام کے اختیارات کو مؤثر اور شفاف طریقے سے استعمال کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے، تاکہ نظام پر عوام کا اعتماد مزید مستحکم ہو۔
ٹیکس اصلاحات: سزا اور جرمانوں میں بہتری
تجاویز میں بتایا گیا ہے کہ پی او ایس (Point of Sale) سسٹم پر ٹیکس چوری کے جرمانے کو 5 لاکھ سے بڑھا کر 50 لاکھ روپے تک کیا جا سکتا ہے، جب کہ سنگین خلاف ورزیوں پر فوجداری مقدمات درج کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں، پائیداری کی بنیاد
آئی ایم ایف کی سفارشات کا مقصد معاشی استحکام کے ساتھ ساتھ سماجی شعبوں میں سرمایہ کاری کے لیے مالی وسائل کو بہتر بنانا ہے۔ تجاویز میں بعض ٹیکس استثنیٰ ختم کرنے اور پر تعیش اشیاء پر سیلز ٹیکس میں اضافے کی بات کی گئی ہے تاکہ ٹیکس کا بوجھ عام شہریوں کی بجائے صاحبِ حیثیت طبقات پر منتقل کیا جا سکے۔
زرعی شعبے کے لیے نئی تجاویز
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے کھاد، زرعی اسپرے اور مشینری پر جی ایس ٹی عائد کرنے کی تجویز دی ہے، تاہم حکومت ان تجاویز کا ملکی کسانوں اور غذائی تحفظ پر اثرات کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کرے گی۔






