اسلام آباد: حکومت پاکستان نے ایل این جی (LNG) کے شعبے میں ایک اور اہم کامیابی حاصل کرتے ہوئے 6 مزید کارگو عالمی سپاٹ مارکیٹ کی طرف منتقل کر دیے ہیں، جس سے قومی معیشت کو لچکدار توانائی منصوبہ بندی میں فائدہ حاصل ہوگا۔
پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق یہ کارگو اطالوی کمپنی ENI سے درآمد کیے جانے تھے، جن کے ساتھ پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (PLL) کا 15 سالہ طویل مدتی معاہدہ موجود ہے۔ اس معاہدے کے تحت ہر ماہ ایک کارگو لینا لازم تھا، تاہم پاکستان نے عالمی مارکیٹ کی ضروریات اور مقامی گیس دباؤ (line pack pressure) کو مدنظر رکھتے ہوئے ذمہ دارانہ فیصلہ کیا۔
✅ پہلے 5، اب مزید 6 کارگو: کل تعداد 11 ہوگئی
حکومت پہلے ہی 5 کارگو منتقل کر چکی ہے، اور اب مزید 6 کی منتقلی کے بعد یہ تعداد دسمبر 2025 تک 11 کارگو تک پہنچ گئی ہے۔ ترجمان سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (SNGPL) نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ:
"یہ فیصلہ نہ صرف معاہدے کی شرائط کے تحت ممکن ہوا بلکہ اس سے گلوبل انرجی ٹریڈ میں پاکستان کی موجودگی بھی مستحکم ہو رہی ہے۔”
⚙️ مقامی نیٹ ورک کا دباؤ مستحکم، کوئی ایمرجنسی نہیں
اگرچہ گیس لائن پیک پریشر اب بھی 5 بی سی ایف سے زائد ہے، جو ایک حساس سطح سمجھی جاتی ہے، تاہم حکومتی سطح پر مسلسل نگرانی اور مؤثر حکمت عملی کی بدولت اب تک کسی قسم کی ایمرجنسی رپورٹ نہیں ہوئی۔
🌍 عالمی مارکیٹ میں فعال کردار
یہ پیش رفت نہ صرف پاکستان کو توانائی کے شعبے میں زیادہ لچک فراہم کرتی ہے بلکہ اسے عالمی ایل این جی مارکیٹ کا ایک سرگرم کھلاڑی بھی بنا رہی ہے، جو مستقبل میں بہتر سودوں اور توانائی تحفظ کی راہیں کھول سکتی ہے۔
🔍 نتیجہ: مضبوط معیشت، بہتر فیصلہ سازی
حکومت کا یہ قدم ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان اب بین الاقوامی توانائی معاہدوں میں زیادہ ہوشیاری اور اسٹریٹجک سوچ کے ساتھ فیصلے کر رہا ہے۔ ان اقدامات سے نہ صرف مقامی گیس نیٹ ورک کو توازن میں رکھنے میں مدد ملے گی بلکہ مالی طور پر بھی ملک کو بہتر پوزیشن ملے گی۔






