ڈھاکا: بنگلہ دیش میں جاری سیاسی تناؤ کے دوران عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس نے تمام سیاسی جماعتوں سے مکمل تعاون نہ ملنے کی صورت میں مستعفی ہونے کا عندیہ دیا ہے۔ تاہم، ان کی کابینہ کے ارکان نے انہیں اس فیصلے سے باز رہنے پر آمادہ کیا ہے، جس سے ملک میں جمہوری عمل کے تسلسل کی امید برقرار ہے۔
ذرائع کے مطابق، محمد یونس نے اپنی کابینہ کے سامنے واضح کیا کہ وہ صرف اسی صورت میں اپنا کردار جاری رکھیں گے جب تمام سیاسی قوتیں ان کی حکومت کو اعتماد دیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ قومی مفاہمت اور سیاسی استحکام کے لیے کوشاں ہیں، لیکن اس کے لیے تمام فریقین کا تعاون ناگزیر ہے۔
نیشنل سٹیزن پارٹی کے مطابق، محمد یونس کو ملک میں جاری سیاسی بحران سے نمٹنے کے لیے ایک آل پارٹی کانفرنس بلانے کی تجویز دی گئی ہے، تاکہ مختلف سیاسی دھڑوں کو ایک میز پر لا کر مذاکرات کی راہ ہموار کی جا سکے۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب ڈھاکا میں بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (BNP) کے ہزاروں حامیوں نے پہلی بار عبوری حکومت کے خلاف بھرپور احتجاج کیا۔ ایسے میں محمد یونس کا مفاہمت پر مبنی مؤقف اور تمام جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی خواہش سیاسی بحران کے حل کی طرف ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔
سیاسی مبصرین اس پیش رفت کو بنگلہ دیش میں جمہوری عمل کی مضبوطی اور قومی استحکام کے لیے مثبت قرار دے رہے ہیں، اور توقع ہے کہ سیاسی جماعتیں قومی مفاد میں محمد یونس کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کریں گی۔






