اسلام آباد/واشنگٹن
آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں تاخیر کے باعث بجٹ 2 جون کی بجائے 10 جون کو قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ تاہم، عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی ڈائریکٹر کمیونیکیشن جولی کوزیک نے واضح کیا ہے کہ پاکستان نے قرض پروگرام کی تمام شرائط پوری کر لی ہیں اور معاشی اہداف کے حوالے سے مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔
واشنگٹن میں پریس کانفرنس کے دوران جولی کوزیک نے کہا کہ پاکستان کی معاشی کارکردگی اتنی مستحکم رہی کہ قرض کی قسط جاری کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں آئی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ میں بھارتی ممبر کے استعفے سے بورڈ کے فیصلے پر کوئی اثر نہیں پڑتا کیونکہ قسط جاری کرنے کا فیصلہ باہمی رضامندی سے کیا گیا ہے۔
جولی کوزیک نے مزید کہا کہ یہ قرض پروگرام پاکستان میں بجٹ سپورٹ کے لیے نہیں بلکہ زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے کے لیے ہے، اور رقم براہِ راست اسٹیٹ بینک کے پاس رکھی جاتی ہے تاکہ حکومت پاکستان کو فنڈنگ کے لیے قرض لینے کی ضرورت نہ پڑے۔
ایک بھارتی صحافی کے سوال پر کہ آیا پاکستان آئی ایم ایف کے فنڈز کو سرحد پار دہشت گردی کے لیے استعمال کر سکتا ہے، جولی کوزیک نے واضح کیا کہ یہ قرض صرف زرمبادلہ کے ذخائر کے لیے ہے اور حکومت پاکستان کو اسٹیٹ بینک سے قرض لینے کی اجازت نہیں۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان اور بھارت حالیہ کشیدگی کا پرامن حل نکال لیں گے، جس سے خطے میں امن و استحکام کو فروغ ملے گا۔






