وفاقی وزیر مذہبی امور سردار یوسف کی پریس کانفرنس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس سال نجی حج اسکیم کے تحت صرف 25 ہزار 698 عازمین حج جاسکیں گے، کیونکہ نجی اسکیم کے کوٹے میں سستی اور تاخیر کی وجہ سے بروقت کارروائی مکمل نہیں کی جا سکی۔
وزیر نے بتایا کہ پاکستان کی حج پالیسی کے تحت کل کوٹہ 1 لاکھ 79 ہزار 210 ہے، جس میں 50 فیصد سرکاری اسکیم اور 50 فیصد نجی اسکیم کو مختص ہے۔ سرکاری اسکیم کے تمام انتظامات وزارت مذہبی امور کی جانب سے سعودی حکام کی ہدایات کے مطابق مکمل کیے گئے ہیں اور اس کا کوٹہ پورا استعمال ہو چکا ہے۔
تاہم نجی اسکیم میں شامل این جی اوز اور کمپنیاں مقررہ وقت پر کام کرنے میں ناکام رہیں، جس کی وجہ سے نجی حج کوٹہ مکمل نہیں ہو سکا۔ وزیر نے کہا کہ نجی اسکیم کے لیے بنائے گئے کلسٹرز اور کمپنیاں دو ہزار حاجیوں کے ہدف کو پورا نہیں کر سکیں اور مقررہ ڈیڈ لائن تک رقم جمع نہیں کروا سکیں، جس پر سعودی حکومت نے بھی پابندی لگا دی۔
وزیر نے وزیراعظم کی ہدایت پر وزیر خارجہ کے ذریعے سعودی حکومت سے رابطہ کیا گیا جس کے نتیجے میں پاکستان کو نجی اسکیم کے لیے اضافی 10 ہزار کا کوٹہ دیا گیا، جس کی بدولت کل 25 ہزار 698 عازمین نجی حج کے تحت روانہ ہوں گے۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ سعودی حکومت مزید کوئی اضافی حج کوٹہ نہیں دے گی اور جو حاجی اس سال نجی اسکیم کے کوٹے میں شامل نہیں ہو سکے وہ حج نہیں کر سکیں گے۔ اس معاملے کی مکمل انکوائری کے لیے وزیراعظم کی ہدایت پر کمیٹی بھی قائم کر دی گئی ہے۔
وزیر نے زور دے کر کہا کہ حج کے عمل میں تاخیر اور کوتاہی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
آپ کو اس بیان میں مزید کوئی مخصوص معلومات چاہیے یا اس کا خلاصہ؟





