اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے ملک میں جاری دہشتگردی کے حالیہ واقعات پر دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) بھارت کی پراکسی کے طور پر کام کر رہی ہے، اور پاکستان میں خونریزی کے لیے بھارتی فنڈنگ حاصل کرتی ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پاکستان ان دہشتگرد عناصر کو پوری قوت کے ساتھ جواب دے گا، اور ایسے حملوں سے نہ صرف یہ گروہ اپنی عوامی حمایت کھوتے ہیں بلکہ ان کی تحریکیں بھی بےاثر ہو جاتی ہیں۔
"جب کسی تحریک کی جانب سے عورتوں، بچوں اور غیرمسلح شہریوں کو نشانہ بنایا جائے، تو ایسی تحریک کی اخلاقی اور عوامی حمایت ختم ہو جاتی ہے۔ ریاست اپنی رٹ قائم کرنے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گی۔”
بھارت کی مداخلت کے شواہد موجود ہیں:
خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے بھارت پر لگائے گئے الزامات محض بیانات نہیں بلکہ ثبوتوں پر مبنی مؤقف ہے، جسے عالمی سطح پر بھی پیش کیا جائے گا۔
"بی ایل اے کو بھارت پیسہ دیتا ہے، اور ہم یہ باتیں صرف الزامات کی بنیاد پر نہیں کہہ رہے، ہم دنیا کو ثبوتوں کے ساتھ دکھائیں گے کہ ہمارے خلاف پراکسی وار کس طرح لڑی جا رہی ہے۔”
دہشتگردی کے خلاف قومی عزم:
وزیر دفاع کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان کو اندرونی و بیرونی سطح پر سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ صرف بندوق سے نہیں، بلکہ سیاسی، سفارتی اور عدالتی محاذوں پر بھی لڑی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ قوم، افواجِ پاکستان اور ریاستی ادارے متحد ہیں، اور کسی بھی دہشتگرد گروہ کو ریاست کی خودمختاری اور سلامتی سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔






