اسلام آباد: بھارت میں پاکستانی شخصیات کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی بندش کے سلسلے میں نیا اضافہ، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شیری رحمان کا سوشل میڈیا اکاؤنٹ بھی بلاک کر دیا گیا۔
سینیٹر شیری رحمان نے اس اقدام پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ بھارت میں سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کرنے کا مقصد سچ بولنے والوں کو خاموش کرنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بھارتی حکومت کا یہ عمل نہ صرف اظہارِ رائے کی آزادی کے منافی ہے بلکہ عالمی جمہوری اقدار کے بھی خلاف ہے۔
سینیٹر کا کہنا تھا کہ ان کے اکاؤنٹ کی بندش کا مقصد پہلگام واقعے سے متعلق حقائق کو دبانا ہے، لیکن بھارت لاکھ کوشش کے باوجود سچ کو چھپا نہیں سکتا۔
شیری رحمان نے زور دے کر کہا، "پاکستان نے ہمیشہ امن کا پرچم بلند کیا ہے، لیکن اگر دوبارہ قومی خودمختاری پر کوئی حملہ ہوا تو مؤثر جواب دیا جائے گا۔”
انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ بھارت کی جانب سے اظہارِ رائے کی آزادی پر قدغن لگانے کے عمل کا نوٹس لیا جائے اور ایسے اقدامات کی مذمت کی جائے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے ذرائع کے مطابق وہ اس معاملے کو بین الاقوامی سطح پر بھی اٹھانے پر غور کر رہے ہیں تاکہ آزادی اظہار کے بنیادی حق کا تحفظ ممکن بنایا جا سکے۔






