اہم خبریںدنیا

کینیا کی خاتون تارک وطن نے برطانیہ میں مستقل قیام کی قانونی جنگ جیت لی، عدالتی غلطیوں کا انکشاف

لندن: برطانیہ میں مقیم کینیا سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون تارک وطن نے بالآخر مستقل قیام کے لیے اپنی طویل قانونی جنگ جیت لی، جسے ابتدا میں برطانیہ کے ہوم آفس نے ٹائپنگ اور شواہد میں غلطیوں کے باعث مسترد کر دیا تھا۔

یہ شادی شدہ خاتون، جس نے سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر اپنا نام ظاہر نہیں کیا، 2018 میں کینیا سے فرار ہو کر برطانیہ پہنچی تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ اس کے خاندانی معاشرے میں اس کے ایک خفیہ معاشقے کا علم ہونے پر اس کی جان کو شدید خطرہ لاحق ہو گیا تھا۔ اسے اندیشہ تھا کہ اگر وہ واپس کینیا گئی تو اس کا شوہر اسے جان سے مار دے گا۔

ہوم آفس کی طرف سے ابتدائی انکار
خاتون کے سیاسی پناہ کے دعوے کو ہوم آفس نے ابتدائی طور پر مسترد کر دیا، جس پر اس نے امیگریشن اینڈ اسائلم چیمبر کے فرسٹ ٹیر ٹریبونل میں اپیل دائر کی۔ بدقسمتی سے اس اپیل کو بھی اس بنیاد پر خارج کر دیا گیا کہ وہ براعظم افریقہ میں کسی اور مقام پر تحفظ حاصل کر سکتی تھی۔

اپر ٹریبونل کا غیرمعمولی فیصلہ
بعد ازاں، جب معاملہ اپر ٹیر ٹریبونل تک پہنچا تو جج ڈیوڈ پک اپ نے ابتدائی فیصلے کی باریک بینی سے جانچ پڑتال کی۔ جج نے تسلیم کیا کہ پچھلے فیصلے میں نہ صرف ٹائپنگ کی بڑی غلطیاں تھیں بلکہ شواہد کے تجزیے میں بھی سنگین خامیاں تھیں، جو انصاف کے تقاضوں کے خلاف تھیں۔

جج کا کہنا تھا:

"ان حالات میں پچھلے فیصلے کو برقرار رکھنا غیر منصفانہ ہوگا۔ یہ معاملہ انسانی جان سے متعلق ہے، اور ہر پہلو سے انصاف ہونا ضروری ہے۔”

انصاف کی فتح، انسانی ہمدردی کی جیت
نئے فیصلے کی روشنی میں خاتون کو برطانیہ میں رہنے کی اجازت دی گئی ہے، جسے انسانی حقوق کے علمبردار حلقوں نے ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔ یہ فیصلہ اس بات کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ برطانیہ کا عدالتی نظام غلطیوں کو درست کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، خاص طور پر جب معاملہ زندگی اور موت جیسا نازک ہو۔

ماہرین امیگریشن کا کہنا ہے کہ یہ کیس دیگر پناہ گزینوں کے لیے بھی امید کی کرن ہے، جو غیر منصفانہ یا تکنیکی بنیادوں پر مسترد کیے گئے فیصلوں کے خلاف قانونی جدوجہد کر رہے ہیں۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button