نیویارک — پاکستان کی موثر اور پیشہ ورانہ فوجی حکمت عملی نے خطے میں نہ صرف بھارت کی یکطرفہ جارحیت کو ناکام بنایا بلکہ عالمی سطح پر مودی حکومت کو سیاسی و سفارتی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ امریکی دباؤ، خلیجی ممالک کی ثالثی، اور پاکستان کی جانب سے کی گئی مہلک اور فیصلہ کن جوابی کارروائیوں نے بھارت کی جنگی حکمت عملی کو بے اثر کر دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، مودی حکومت نے جنگ بندی کی شرائط تسلیم کرنے کے باوجود جلد ہی اس سے انحراف کی راہ اپنائی، اور کسی تیسرے غیر جانبدار ملک میں مذاکرات کی شرط ماننے کے بعد چند گھنٹوں میں اس سے انکار کر دیا۔ اس انکار کے ساتھ ہی بھارت نے لائن آف کنٹرول پر شدید گولہ باری کر کے جنگ بندی کے معاہدے کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی۔
اس ساری صورتحال میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر خارجہ مائیک روبیو کی براہِ راست مداخلت، نیز سعودی عرب، قطر اور عرب امارات کی سفارتی کوششوں کے باوجود، بھارت کا جنگ بندی سے پیچھے ہٹنا واضح کرتا ہے کہ نئی دہلی کی قیادت اندرونی و بیرونی دباؤ میں ہے۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے بھی بھارت کے دوغلے موقف کو اپنی تازہ رپورٹ میں بے نقاب کیا ہے۔
بھارت کے سیکریٹری خارجہ وکرم مصری نے بیان دیا کہ جنگ بندی محض عارضی ہے اور اس کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا، جس سے بھارت کی نیت پر شکوک بڑھ گئے ہیں۔
یہ سب کچھ اس وقت ہو رہا ہے جب امریکہ، جو پہلے اس معاملے پر لاتعلق نظر آ رہا تھا، اب واضح طور پر جنگ روکنے کے لیے سرگرم ہو چکا ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی اچانک مداخلت نے ظاہر کیا ہے کہ پاکستان کی افواج کی طرف سے کیا گیا دفاعی ردعمل نہ صرف موثر بلکہ بین الاقوامی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔
پاکستان کی صبروتحمل پر مبنی مگر مہلک دفاعی حکمتِ عملی نے نہ صرف دشمن کے عزائم خاک میں ملا دیے، بلکہ مودی حکومت کو اندرون ملک سیاسی بحران، عالمی سطح پر اخلاقی دباؤ اور سفارتی تنہائی کی جانب دھکیل دیا ہے۔






