عوام کا انوکھا مشورہ: "انڈیا پر وہی وار ہو، جو بنی گالا پر ہوا!”
اسلام آباد: حالیہ کشیدگی اور بھارتی جارحیت کے تناظر میں پاکستانی سوشل میڈیا پر ایک دلچسپ اور طنزیہ تجویز نے توجہ حاصل کر لی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ "بھارت پر وہی حملہ ہونا چاہیے جیسا سابق وزیراعظم عمران خان کے گھر بنی گالا پر ہوا تھا!”
یہ بیان عوامی جذبات کا عکاس ہے، جو ایک طرف بھارت کی حالیہ اشتعال انگیزی پر شدید غصے میں ہیں، تو دوسری جانب ملک کے اندرونی حالات اور سیاسی اقدامات پر بھی سوال اٹھا رہے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ "اگر اتنی منظم اور بےرحم کارروائی اپنے ہی ملک میں کی جا سکتی ہے، تو دشمن کے خلاف کیوں نہیں؟”
طنزیہ لہجے میں دیے گئے اس بیان میں وزیراعظم شہباز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا کہ: "بس آنکھیں بند کریں اور بھارت کو بنی گالا سمجھ لیں، شاید اسی بہانے قوم کا بدلہ بھی پورا ہو جائے!”
سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ تبصرہ کسی حملے کی ترغیب نہیں بلکہ اس پالیسی تضاد پر عوامی ردعمل ہے جو ملکی اور غیر ملکی معاملات میں اختیار کیا جاتا ہے۔ پاکستانی عوام نہ صرف ملک کے دفاع میں سنجیدہ ہیں بلکہ وہ انصاف اور توازن پر بھی زور دیتے ہیں — چاہے وہ اندرونی سیاست ہو یا بیرونی دشمنی۔
یہ اندازِ بیان اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی قوم جذبات کے ساتھ ساتھ شعور بھی رکھتی ہے، اور جب وہ بولتی ہے، تو اُس کے لفظوں میں درد بھی ہوتا ہے، طنز بھی اور سوال بھی۔






