اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اہم اجلاس آج، شرح سود میں کمی کا امکان
کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اہم اجلاس آج منعقد ہو رہا ہے، جس میں آئندہ پالیسی ریٹ (شرح سود) کا فیصلہ کیا جائے گا۔ ماہرین اور مالیاتی اداروں کی رائے کے مطابق ملک میں معاشی حالات اور مہنگائی میں کمی کے تناظر میں شرح سود میں کمی کا قوی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اس وقت اسٹیٹ بینک نے پالیسی ریٹ 12 فیصد مقرر کر رکھا ہے، جو ایک سال کے دوران 10 فیصد کم ہو چکا ہے۔ اس نمایاں کمی کو ملک میں مالیاتی استحکام اور افراطِ زر میں قابو پانے کی کوششوں سے جوڑا جا رہا ہے۔
بڑے مالیاتی اداروں کی جانب سے کرائے گئے ایک حالیہ سروے کے مطابق 69 فیصد شرکاء کا خیال ہے کہ شرح سود میں کم از کم 50 بیسز پوائنٹس کمی کی جائے گی، جب کہ 30 فیصد شرکاء شرح سود میں 100 بیسز پوائنٹس کمی کی توقع کر رہے ہیں۔ صرف 1 فیصد افراد کا ماننا ہے کہ اس میں 150 بیسز پوائنٹس تک کمی آ سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اسٹیٹ بینک کے پاس دسمبر 2025 تک شرح سود میں مزید 200 بیسز پوائنٹس تک کمی کی گنجائش موجود ہے، اور توقع کی جا رہی ہے کہ اگلے 18 ماہ کے دوران پالیسی ریٹ 9 سے کم ہو کر 8 فیصد تک آ سکتا ہے۔
شرح سود میں ممکنہ کمی کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے، قرض گیری کی لاگت میں کمی، اور معاشی ترقی میں تیزی لانے کے لیے ایک خوش آئند پیش رفت ہو گی۔ معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ملکی سرمایہ کاری کے ماحول اور نجی شعبے کی بحالی کے لیے اہم کردار ادا کرے گا۔






