اہم خبریںپاکستانتازہ ترینلمحہ با لمحہ

پاک بھارت کشیدگی میں شدت: دفاعی طاقتوں کا تقابلی جائزہ اور جنگ کے خدشات

لاہور : پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں ایک بار پھر شدت آتی دکھائی دے رہی ہے، جہاں دونوں جوہری طاقتیں بظاہر "ہزار زخم دینے” کی پالیسی پر گامزن نظر آتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ کے بادل پہلے سے زیادہ گہرے ہو چکے ہیں، اور اگر خدانخواستہ جنگ چھڑتی ہے تو اس کے نتائج تباہ کن ہوں گے۔

1947 کے بعد سے پاکستان اور بھارت چار بڑی جنگیں لڑ چکے ہیں اور کشمیر کے تنازع پر بارہا فوجی محاذ آرائی کا سامنا بھی کر چکے ہیں۔ موجودہ حالات میں دونوں ممالک کی عسکری طاقتوں کا تقابلی جائزہ خاصی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔

عسکری طاقت کا تقابل
بین الاقوامی دفاعی تجزیاتی ادارے "گلوبل فائر پاور” کی 2025 کی درجہ بندی کے مطابق پاکستان دنیا کی بارہویں اور بھارت چوتھی بڑی فوجی طاقت ہے۔ امریکہ، روس اور چین اس فہرست میں بھارت سے آگے ہیں۔

فوجی افرادی قوت

پاکستان: 6,54,000 فعال اہلکار، 5,00,000 نیم فوجی، 5,50,000 ریزرو

بھارت: 14,55,550 فعال اہلکار، 25,27,000 نیم فوجی، 11,55,000 ریزرو

فضائی قوت

پاکستان: 1,399 طیارے (328 جنگی، 373 ہیلی کاپٹر)

بھارت: 2,229 طیارے (513 جنگی، 899 ہیلی کاپٹر)

زمینی اثاثے

پاکستان: 2,627 ٹینک، 17,516 بکتر بند گاڑیاں، 662 خودکار توپیں

بھارت: 4,201 ٹینک، 1,48,594 بکتر بند گاڑیاں، 3,975 توپیں

بحری قوت

پاکستان: 121 جنگی جہاز، 8 آبدوزیں، 9 فریگیٹس

بھارت: 293 جنگی جہاز، 2 طیارہ بردار، 18 آبدوزیں، 14 فریگیٹس

جوہری طاقت کا توازن
SIPRI کی 2024 رپورٹ کے مطابق بھارت کے پاس 172 اور پاکستان کے پاس 170 جوہری ہتھیار موجود ہیں، جو کہ ایک تاریخی موڑ ہے کیونکہ پہلی بار بھارت کا ایٹمی ذخیرہ پاکستان سے زیادہ ہو گیا ہے۔ ماضی میں عام طور پر پاکستان کو معمولی برتری حاصل رہی تھی۔

پاکستان کے "رعد” کروز میزائل، جو 350 سے 600 کلومیٹر کی رینج رکھتے ہیں، فضائیہ کی جوہری صلاحیت کو بڑھا رہے ہیں۔ F-16، JF-17، اور میراج V جیسے طیارے ایٹمی ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

دفاعی اخراجات
بھارت: سالانہ دفاعی بجٹ 86 ارب ڈالر (دنیا میں پانچویں نمبر پر)

پاکستان: سالانہ دفاعی بجٹ 10 ارب ڈالر

ماہرین کی آراء
سابق مشیر قومی سلامتی لیفٹیننٹ جنرل (ر) ناصر جنجوعہ نے کہا ہے کہ جنگ کا دروازہ مؤثر طریقے سے بند ہو چکا ہے، تاہم اگر جنگ ہوئی تو وہ مکمل تباہی کا پیش خیمہ بنے گی۔ جنرل (ر) غلام مصطفیٰ کے مطابق پاکستان کی فوج مکمل طور پر لیس ہے، جبکہ میجر جنرل اعجاز اعوان نے خبردار کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر حملہ یا بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کا خدشہ موجود ہے۔

نتیجہ
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی برادری کے لیے بھی لمحۂ فکریہ ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر سفارتی سطح پر مداخلت نہ کی گئی تو یہ تناؤ کسی بڑے المیے کو جنم دے سکتا ہے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button