واشنگٹن / نئی دہلی: امریکا نے بھارت کے ساتھ 13 کروڑ ڈالر مالیت کا دفاعی معاہدہ منظور کر لیا ہے، جس میں جدید سمندری ویژن سافٹ ویئر اور اس سے متعلق تربیتی سہولیات کی فراہمی شامل ہے۔ معاہدے کا مقصد بھارت کی بحری نگرانی کی صلاحیت کو بڑھانا بتایا گیا ہے۔
امریکی وزارتِ دفاع کے حکام کے مطابق یہ معاہدہ جنوبی ایشیا میں استحکام قائم رکھنے کی کوششوں کا حصہ ہے اور اس سے خطے میں فوجی طاقت کا توازن متاثر نہیں ہوگا۔
امریکی حکام نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ دفاعی تعاون خطے میں امن و سلامتی کو فروغ دینے کے لیے ہے اور کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں۔
دوسری جانب دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس معاہدے سے بھارت کی بحری نگرانی اور سمندری حدود میں نقل و حرکت کی صلاحیت میں واضح بہتری آئے گی، جو خطے میں طاقت کے توازن پر اثرانداز ہو سکتی ہے۔
پاکستانی سفارتی و دفاعی حلقوں میں اس معاہدے پر محتاط ردعمل دیکھنے میں آیا ہے، جہاں اس پیش رفت کو جنوبی ایشیا میں بڑھتی ہوئی اسٹریٹجک رسہ کشی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے معاہدوں میں علاقائی شفافیت اور توازن کا خیال رکھنا ضروری ہے، تاکہ کسی بھی قسم کی نئی سرد جنگ کی فضا نہ بنے۔





