اہم خبریںپاکستانتازہ ترینلمحہ با لمحہ

پہلگام حملے کے بعد بھارت کا انتقامی رویہ، فضائی حدود کی بندش؛ پاکستان کا بھرپور سفارتی ردعمل

اسلام آباد: پہلگام میں ہونے والے حملے کے بعد بھارت نے بغیر تحقیق پاکستان پر الزامات عائد کرتے ہوئے یکطرفہ انتقامی اقدامات کا سلسلہ شروع کر دیا ہے، جس میں 30 اپریل سے 23 مئی 2025 تک پاکستانی کمرشل اور فوجی طیاروں کے لیے فضائی حدود کی بندش بھی شامل ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق، 22 اپریل کے واقعے کے بعد بھارت نے صرف الزامات کی بنیاد پر متعدد اقدامات اٹھائے، جن میں سندھ طاس معاہدے کی معطلی، اٹاری-واہگہ بارڈر کی بندش، پاکستانی شہریوں کے ویزوں کی منسوخی، اور اب فضائی حدود کی بندش جیسے سخت فیصلے شامل ہیں۔ دفاعی ماہرین ان اقدامات کو خطے کے امن کے لیے خطرہ قرار دے رہے ہیں۔

اس کے برعکس، پاکستان نے ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے فوری طور پر سفارتی محاذ پر احتجاج ریکارڈ کرایا۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں بھارت کے ان یکطرفہ اقدامات کو "غیر قانونی، غیر منصفانہ اور بین الاقوامی قوانین کے منافی” قرار دیا گیا۔

پاکستان نے عالمی برادری اور اقوام متحدہ کے سامنے شواہد پیش کرتے ہوئے بھارت کے جارحانہ طرز عمل کو بے نقاب کیا۔ ساتھ ہی، پاکستان نے نہ صرف بھارتی طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کیں بلکہ سارک ویزا اسکیم معطل کر کے واہگہ بارڈر پر آمد و رفت بھی روک دی۔

پاکستان نے شملہ معاہدے سمیت تمام دوطرفہ معاہدوں پر نظرثانی کی وارننگ دیتے ہوئے واضح کیا کہ بھارت جب تک اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی ضابطوں کی پاسداری نہیں کرتا، تعلقات معمول پر نہیں لائے جا سکتے۔

ادھر، بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت نے مغربی سرحد پر جدید جامنگ سسٹمز نصب کر دیے ہیں، جن کا مقصد پاکستانی فضائی نیویگیشن کو متاثر کرنا ہے۔ یہ اقدام دفاعی ماہرین کی نظر میں ممکنہ جنگی تیاریوں کی جانب اشارہ کرتا ہے۔

بھارتی فضائی حدود کی بندش سے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (PIA) سمیت تمام پاکستانی ایئرلائنز متاثر ہوں گی، جنہیں متبادل طویل اور مہنگے راستے اختیار کرنے پڑیں گے، جیسے کہ چین یا سری لنکا کے ذریعے جنوب مشرقی ایشیا کے شہروں تک رسائی۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان اپنے دفاع سے غافل نہیں اور ہر جارحیت کا مؤثر اور بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ خطے میں امن کا قیام پاکستان کی اولین ترجیح ہے، لیکن اس امن کو کمزوری سمجھنے والوں کو واضح پیغام ہے کہ قومی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button