نئی دہلی / اسلام آباد — مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں حالیہ حملے کے بعد، بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی زیر صدارت سیکیورٹی اجلاس میں بھارتی فوج کو مبینہ طور پر پاکستان کے خلاف کارروائی کی مکمل اجازت دے دی گئی ہے۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم مودی نے فوج کو ‘مکمل آپریشنل آزادی’ دیتے ہوئے کہا ہے کہ جوابی کارروائی کا وقت، مقام اور طریقہ کار فوج خود طے کرے گی۔
ذرائع کے مطابق اس اجلاس میں وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ، قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول، اور چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انیل چوہان بھی شریک تھے، جب کہ آج بھارت کی کابینہ کمیٹی برائے سلامتی کا ایک اور ہنگامی اجلاس متوقع ہے۔
اس کشیدہ صورتحال کے تناظر میں پاکستان نے بھارت کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر کسی قسم کی جارحیت کی گئی تو پاکستان اس کا بھرپور اور مؤثر جواب دے گا۔ پاکستانی وزیر اطلاعات عطا اللّٰہ تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان امن کا داعی ضرور ہے، مگر اپنی خودمختاری اور سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
ادھر اقوامِ متحدہ، امریکہ اور دیگر عالمی قوتوں نے دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور کشیدگی کو مزید بڑھنے نہ دیں۔ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی سے جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کو سنگین خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں جوہری طاقتوں کے درمیان کشیدگی کے ایسے لمحات میں سفارتی چینلز کو متحرک کرنا انتہائی ضروری ہے تاکہ تنازعہ کسی بڑے تصادم میں تبدیل نہ ہو۔






