"عمران خان کی برطرفی کے بعد پی ٹی آئی کی مزاحمت نے ملک کو بحران میں ڈالا، لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ”
لاہور: لاہور ہائی کورٹ نے سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کی جانب سے 9 مئی کے واقعات سے متعلق تمام مقدمات کو یکجا کرنے کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مماثلت نہ رکھنے والے کیسز کو یکجا نہیں کیا جا سکتا۔
جسٹس طارق سلیم شیخ اور جسٹس شہباز رضوی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے 16 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا، جس میں قانونی نکتہ طے کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ہر مقدمہ اپنے وقوعہ، وقت اور مقام کے لحاظ سے مختلف ہے، لہٰذا ان کا ٹرائل الگ الگ ہونا چاہیے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ 9 مئی 2023 کو بانی پی ٹی آئی عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں پرتشدد احتجاج ہوا، جس میں آرمی تنصیبات اور عوامی املاک کو نشانہ بنایا گیا۔ ان واقعات کے بعد صرف لاہور میں 11 مقدمات درج ہوئے، جبکہ دیگر شہروں میں بھی درجنوں مقدمات بنے۔
فواد چوہدری کے خلاف ان مقدمات میں سوشل میڈیا کے ذریعے عوام کو اکسانے کا الزام ہے۔ عدالت نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 13 اے صرف اس صورت میں لاگو ہوتا ہے جب کسی شخص کو ایک جرم میں سزا دی جا چکی ہو۔ موجودہ کیس میں الزامات کی نوعیت، مقام اور وقت الگ الگ ہیں، لہٰذا یہ دفعہ قابل اطلاق نہیں۔
عدالت نے واضح کیا کہ اگر کسی مقدمے میں ٹرائل جج کو مماثلت نظر آئے تو وہ سی آر پی سی کے سیکشن 239 کے تحت مقدمات کو یکجا کر سکتا ہے، لیکن عمومی طور پر ہر مقدمے کو انفرادی حیثیت سے ہی سنا جائے گا۔
عدالت کے مطابق، فواد چوہدری نے 2018 سے 2022 تک بطور وفاقی وزیر خدمات انجام دیں، اور اب وہ پی ٹی آئی کے رہنما کی حیثیت سے ان مقدمات میں شامل تفتیش ہیں۔
ماہرین قانون کے مطابق یہ فیصلہ واضح کرتا ہے کہ قانونی نظام ہر مقدمے کی انفرادیت اور شفاف ٹرائل کو ترجیح دیتا ہے، اور انصاف کے تقاضے اسی اصول کے تحت پورے کیے جاتے ہیں۔






