نئی دہلی / سری نگر: بھارت نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان کے لیے طویل المدتی ویزا اور سفارتی یا آفیشل ویزا کی مدت برقرار رہے گی، جبکہ دیگر کیٹیگریز میں جاری ویزوں کی معیاد منگل کے روز ختم ہو جائے گی۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت کی جانب سے پاکستانی شہریوں کو 16 مختلف ویزا کیٹیگریز میں ویزے جاری کیے جاتے ہیں۔ حکام نے وضاحت کی ہے کہ ان میں سے صرف 2 کیٹیگریز — طویل المدتی ویزا اور آفیشل/سفارتی ویزا — کی معیاد برقرار رکھی جائے گی، اور ان پر کسی قسم کی پابندی یا تبدیلی نہیں کی گئی۔ دیگر تمام ویزا اقسام کے لیے جاری اجازت نامے اپنی مدت مکمل کرنے کے بعد منسوخ سمجھے جائیں گے۔
اس پیش رفت کو دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدہ تعلقات کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، تاہم سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ کم از کم سرکاری سطح پر رابطوں کے لیے ویزا کی دستیابی کا برقرار رہنا تعلقات کے مکمل منقطع ہونے کی نفی کرتا ہے۔
ادھر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز نے پہلگام واقعے کے بعد حریت پسندوں کے گھروں کو منہدم کرنے کی اسرائیلی طرز کی کارروائیاں عارضی طور پر روک دی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق نیشنل کانفرنس سمیت کئی علاقائی جماعتوں نے ان اقدامات پر شدید احتجاج کیا، جس کے بعد حکومت کو یہ پالیسی معطل کرنا پڑی۔
وادی میں عوامی ردعمل، مظاہروں اور ممکنہ بدامنی کے پیشِ نظر بھارتی حکام نے پیر کے روز یہ عمل روک دیا۔ تاہم اطلاعات کے مطابق حریت پسندوں کے اہلِ خانہ اور قریبی رشتہ داروں کے خلاف گرفتاریوں اور چھاپوں میں تیزی آ گئی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ بھارتی حکومت کو کشمیر میں سخت گیر پالیسی پر عوامی ردعمل کا سامنا ہے، جس کے سبب کچھ اقدامات وقتی طور پر معطل کیے جا رہے ہیں، لیکن صورت حال اب بھی کشیدہ ہے۔






