اہم خبریںدنیا

پاکستانی فضائی حدود کی بندش، بھارتی ایئرلائنز کو یومیہ 20 کروڑ سے زائد کا نقصان

اسلام آباد: پاکستانی فضائی حدود کی حالیہ بندش بھارتی ایئرلائنز کے لیے مہنگی ثابت ہو رہی ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر بھارتی ایئرلائنز کو صرف ایندھن کے اضافی اخراجات میں 20 کروڑ 50 لاکھ روپے سے زائد کا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔

پاکستان کی فضائی حدود میں موجود 11 میں سے 4 اہم فضائی راستے بھارتی طیارے مستقل طور پر استعمال کرتے تھے۔ ہفتہ وار اوسطاً 1200 بھارتی مسافر طیارے پاکستانی فضائی حدود سے گزرتے ہیں، تاہم حالیہ بندش کے باعث ان پروازوں کو متبادل، طویل راستے اختیار کرنے پڑ رہے ہیں۔

بھارتی طیاروں کو مغرب کی جانب روانگی کے لیے اب پہلے جنوبی سمت میں جا کر کھلے سمندر کے ذریعے رخ بدلنا پڑتا ہے، جس سے پرواز کا وقت، فاصلہ اور ایندھن کا استعمال بڑھ گیا ہے۔ خاص طور پر شمالی بھارت کے ایئرپورٹس، جیسے دہلی، امرتسر اور لکھنؤ سے دبئی اور مشرق وسطیٰ جانے والی پروازیں دگنے ایندھن کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہیں۔

اضافی لاگت صرف فیول تک محدود نہیں۔ طویل راستوں کے باعث مسافروں کو ٹکٹ مہنگے مل رہے ہیں، جس کے نتیجے میں وہ غیر ملکی ایئرلائنز کو ترجیح دینے لگے ہیں۔ اس رحجان نے بھارتی ایئرلائنز کے مسافروں کی تعداد اور منافع پر بھی منفی اثر ڈالا ہے۔

ماہرین کے مطابق بوئنگ طیارے 100 گھنٹے کی اضافی پرواز میں 5 لاکھ 47 ہزار ڈالرز کے اضافی اخراجات اٹھاتے ہیں، جبکہ ایئربس طیاروں کو اسی دورانیے میں 1 لاکھ 96 ہزار ڈالرز کے اضافی ایندھن کا خرچ برداشت کرنا پڑتا ہے۔ موجودہ صورتحال میں بھارتی طیارے ایک پرواز کے دوران اوسطاً 2 سے 4 گھنٹے زائد وقت فضا میں گزارنے پر مجبور ہیں۔

یہ صورتحال ماضی کی یاد بھی تازہ کر رہی ہے، جب 2019ء میں پاکستانی فضائی حدود کی بندش کے باعث ایئر انڈیا کو تقریباً 491 کروڑ روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا تھا۔ دیگر ایئرلائنز جیسے انڈیگو، اسپائس جیٹ اور گو ایئر کو بھی کروڑوں روپے کا نقصان ہوا تھا۔

فضائی ماہرین کے مطابق اگر موجودہ پابندی برقرار رہی تو بھارتی ایئرلائن انڈسٹری کو اربوں روپے کا مجموعی نقصان ہو سکتا ہے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button