واشنگٹن/نیویارک: مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں حالیہ واقعے کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر امریکا کی جانب سے اہم ردعمل سامنے آیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسئلے کا "ذمہ دارانہ حل” تلاش کریں۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے ایک ای میل بیان میں کہا کہ واشنگٹن صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور بھارت و پاکستان دونوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔
ترجمان کے مطابق، "ہم فریقین کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ بات چیت اور سفارتکاری کے ذریعے آگے بڑھیں۔ امریکا چاہتا ہے کہ اس حساس معاملے کو پرامن طریقے سے حل کیا جائے۔”
امریکا نے پہلگام واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے بھارت کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا، تاہم اس کے باوجود پاکستان پر کوئی براہِ راست تنقید نہیں کی، جو واشنگٹن کی متوازن سفارتی حکمتِ عملی کی عکاسی کرتا ہے۔
مزید برآں، سعودی عرب اور ایران نے بھی خطے میں امن قائم رکھنے کے لیے ثالثی کی پیشکش کی ہے، جب کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے امید ظاہر کی تھی کہ بھارت اور پاکستان اپنے اختلافات بات چیت سے حل کر سکتے ہیں۔
عالمی سطح پر جاری ان کوششوں کا مقصد خطے میں قیامِ امن اور کسی بھی ممکنہ تصادم کو روکنا ہے۔






