کشمیریوں کی نسل کشی کا نوٹس نہ لیا تو عالمی امن بحران کا شکار ہوگا۔صدرپاکستان

اسلام آباد:(انمول نیوز) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ اگر دنیا نے بھارت کی کشمیر میں نسل کشی کا نوٹس نہ لیا تو مجھے ڈر ہے کہ عالمی امن ایک بہت بڑے بحران کا شکار ہوجائے گا۔

نئے پارلیمانی سال کے آغاز پر صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے چ میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا۔

صدر مملکت کا خطاب شروع ہوتے ہی اپوزیشن کی جانب سے حکومت مخالف شدید نعرے بازی کی گئی لیکن پارلیمنٹ میں شور شرابے کے باوجود ڈاکٹر عارف علوی نے اپنا خطاب جاری رکھا۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر عارف علوی نے پہلا پارلیمانی سال مکمل ہونے پر مبارک باد پیش کی۔

انہوں نے کہا کہ یہ میرا آئینی فریضہ ہے کہ میں حکومت اور پارلیمان کی آئینی کارکردگی پر نظر رکھوں اور جہاں ضرورت ہو آئین و قانون کے مطابق اس کی رہنمائی کروں۔

اپنے خطاب میں ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ اس چھت کے نیچے عوام کے منتخب نمائندوں کی موجودگی عوام کی امیدوں کا مظہر ہیں، ہم سب اللہ کی بارگاہ اور عوام کی عدالت میں جوابدہ ہیں اور اس کا احساس ہر وقت رہنا چاہیے۔

صدرِ مملکت نے کہا کہ اللہ ہمیں اس وطن اور اس کے عوام کی خدمت کرنے کی توفیق دے تاکہ ہم جب اپنا محاسبہ کریں تو ضمیر کی عدالت میں سرخرو ہوسکیں۔

ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ گزشتہ دنوں بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے پر حکومت پاکستان اور عوام نےشدید رد عمل کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ بھارت نے اپنے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدام سے نہ صرف اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی بلکہ شملہ معاہدے کی روح کو بھی ٹھیس پہنچائی ہے۔

صدرِ مملکت نے کہا کہ اس سلسلے میں پارلیمان نے 7 اگست 2019 کے مشترکہ اجلاس میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی حکومت کی طرف سے اٹھائے گئے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کی متفقہ طور پر مذمت کی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات میں کمی، تجارت معطل کرنے اور دو طرفہ تعلقات کا ازسرِ نو جائزہ لینے کا فیصلہ کیا اور مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور دیگر بین الاقوامی اداروں میں بھرپور طریقے سے اٹھایا۔