کرونا وائرس نماز کے وضو سےدورہوسکتاہے، چینی ڈاکٹرحیران

پروفیسر جاوید اکرم نے ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ وضو سے کرونا وائرس کا خاتمہ ممکن ہے چین کے ڈاکٹرزبھی وضو کی افادیت پوچھتے ہیں ۔ ایک انٹرویو کے دوران پروفیسر جاوید اکرم نے کہا کہ میں سب سے پہلے مسلمان ہوں بعد میں سائنٹس ہوں، مجھے مسلمان ہونے پر فخر ہے۔ ڈاکٹر اکرم کا کہنا ہے کہ اگر ہم اپنی زندگی کو حضور کی اطاعت میں ،اسلام اور قرآن مجید کی روشنی میں گزاریں تو کرونا تو کیا ہم دنیاکے ہر وائرس سے بچ جائیں گے۔

اسلام نے صفائی کو نصف ایمان قرار دیا۔ جب ہم اپنی زندگی میں صفائی لے آئیں گے تو آدھی سے زیادہ بیماریاں ختم ہو جائے گی۔ ڈاکٹر جاوید اکرم کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی سوائن فلو ، برڈ فلو جیسی بیماریاں غیر مسلم ممالک سے اٹھیں ۔

انہوں نے کہاکہ ہمیں غور کرنا چاہیے کہ یہ بیماریاں مسلم ممالک سے کیوں نہیں نکلیں؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم حلال کھاتے ہیں ، خون نہیں پیتےجبکہ چین میں سانپ سے لے کر ہر جانور کو کھایا جاتا ہے۔

’چین میں سامنے آنے والا پہلا مریض بھی فوڈ مار کیٹ کے قریب تھا،مسلمان ہونے کے ناطے یقین رکھتا ہوں ڈاکٹر جتنےبھی قابل ہو جائیں کسی کی زندگی نہیں بچا سکتے، زندگی اور موت خدا دیتا ہے‘

ڈاکٹر اکرم نے  دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ کرونا کوئی نیا وائرس نہیں 70 سال سے موجود ہے، کرونا وائرس کے 40 فیصد مریضوں کو بخار نہیں ہوتا۔ کرونا اپنی شکل تبدیل کرتا ہے اس لئے اس کی ویکسین بنانا مشکل ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر روزانہ پانچ بار تین تین مرتبہ اپنے جسم کے حصوں کو دھویا جائے توکرونا وائرس سے بچا جاسکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چین کےایک ڈاکٹر نے مجھے ٹریس کرکے پوچھا کہ وضو کی کیا افادیت ہے۔ میں نے بتایا کہ ہم اپنے جسم کے حصوں کو روزانہ پانچ بار صاف کرتے ہیں جس پر چینی داکٹر نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ میں بہت حیران ہو کہ آپ کا مذہب صفائی کا اتنا خیال رکھتا ہے۔

ڈاکٹر اکرم نے دعویٰ کیا کہ کرونا وائرس کے 97 فیصد افراد گھر میں بیٹھ کر صحت یاب ہوسکتے ہیں آپ کو اپنی جنرل صحت کو بہتر کرنا ہوگی۔ کرونا وائرس سیگریٹ پینے والوں ، موٹے افراد کو زیادہ اثر کرتا ہے۔ اس لئے سگریٹ سے اجتناب کریں۔  موسم گرمامیں وائرس کے خاتمے سے متعلق بیانات پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ گرمیوں میں وائرس پھیلتا ہے ، آسٹریلیا میں گرمی ہے اوروہاں  وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے۔