چوہدری شوگر ملز کیس: مریم نواز کی درخواست پر نیب کا جواب جمع

لاہور ہائیکورٹ میں چوہدری شوگر ملز کیس میں مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کی ضمانت کی درخواست پر نیب نے جواب جمع کروادیا، جس پر مسلم لیگ (ن) کی رہنما کے وکیل نے جواب کیلئے کل تک کی مہلت مانگ لی۔

صوبائی دارالحکومت لاہور کی عدالت میں جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے مریم نواز کی درخواست پر سماعت کی۔

اس دوران نیب کے تفتیشی افسر اور وکیل عدالت میں پیش ہوئے جبکہ مریم نواز کی جانب سے ان کے وکیل نے ان کی نمائندگی کی۔

دوران سماعت عدالت کی جانب سے استفسار کیا گیا کہ ہم مریم نواز کے کیس سے پہلے کچھ سوالات کرنا چاہتے ہیں۔

عدالت نے پوچھا کہ کیا مریم نواز اپنے والد نواز شریف سے ملاقات کر رہی ہیں؟ جس پر ان کے وکیل نے جواب دیا کہ جی مریم نواز کو اپنے والد نواز شریف سے ملاقات کی اجازت دی گئی ہے۔

اسی پر لاہور ہائی کورٹ کے جج نے پوچھا کہ کیا نیب نے درخواست پر جواب جمع کرادیا؟ جس پر نیب کی جانب سے مریم نواز کی درخواست پر جواب عدالت میں پیش کردیا گیا۔

اس پر مریم نواز کے وکیل نے کہا کہ ان کی موکلہ عدالتی ریمانڈ پر ہیں، اسی بنیاد پر درخواست ضمانت دائر ہوچکی ہے، جس پر جسٹس باقر نجفی نے کہا کہ اگر آپ تیار کرنا چاہتے ہیں تو بتائیں، اگر تیاری مکمل ہے تو آج ہی کیس سن لیتے ہیں۔

جس پر مریم نواز کے وکیل نے کہا کہ نیب کا جواب ہمیں مل گیا ہے، کل تک ہم تیاری کر لیتے ہیں، اس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ فریقین کے وکلا کل تک تیاری کے ساتھ پیش ہوں، بعد ازاں مذکورہ کیس کی سماعت کل (29 اکتوبر) تک ملتوی کردی گئی۔

مریم نواز کی درخواست

خیال رہے کہ 24 اکتوبر کو مریم نواز نے چوہدری شوگر ملز کیس میں ضمانت کے لیے ایک اور متفرق درخواست دائر کی تھی، جس پر عدالت نے نیب سے جواب مانگا تھا۔

تاہم 25 اکتوبر کو ہونے والی سماعت کے دوران نیب جواب جمع نہیں کروا پایا تھا جس کے بعد عدالت نے مریم نواز کی درخواست ضمانت سے متعلق دونوں درخواستوں پر سماعت کو آج تک ملتوی کیا تھا۔

واضح رہے کہ عدالت میں دائر درخواست میں مریم نواز نے موقف اختیار کیا تھا کہ وہ ملک کے 3 مرتبہ منتخب وزیراعظم کی بیٹی ہیں، نیب کی جانب سے ان پر جھوٹا کیس بنایا گیا ہے جبکہ نیب کمپنیز ایکٹ کے تحت کارروائی نہیں کرسکتا۔

مریم نواز نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ چوہدری شوگر ملز کیس میں ان کی ضمانت منظور کرکے رہائی کا حکم دیا جائے۔

چوہدری شوگر ملز کیس

خیال رہے کہ مسلم لیگ (ن) کے دورِ حکومت کے دوران جنوری 2018 میں مالی امور کی نگرانی کرنے والے شعبے نے منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت چوہدری شوگر ملز کی بھاری مشتبہ ٹرانزیکشنز کے حوالے سے نیب کو آگاہ کیا تھا۔

بعدازاں اکتوبر 2018 میں نیب کی تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی تھی کہ نواز شریف، مریم نواز، شہباز شریف اور ان کے بھائی عباس شریف کے اہلِ خانہ، ان کے علاوہ امریکا اور برطانیہ سے تعلق رکھنے والے کچھ غیر ملکی اس کمپنی میں شراکت دار ہیں۔

ذرائع نے بتایا تھا کہ چوہدری شوگر ملز میں سال 2001 سے 2017 کے درمیان غیر ملکیوں کے نام پر اربوں روپے کی بھاری سرمایہ کاری کی گئی اور انہیں لاکھوں روپے کے حصص دیے گئے۔

اس کے بعد وہی حصص متعدد مرتبہ مریم نواز، حسین نواز اور نواز شریف کو بغیر کسی ادائیگی کے واپس کیے گئے جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ کمپنی میں بھاری سرمایہ کاری کے لیے غیر ملکیوں کا نام اس لیے بطور پراکسی استعمال کیا گیا کیوں کہ شریف خاندان کی جانب سے سرمایہ کاری کے لیے استعمال کی جانے والی رقم قانونی نہیں تھی۔

جس پر 31 جولائی کو تفتیش کے لیے نیب کے طلب کرنے پر وہ پیش ہوئیں تھیں اور چوہدری شوگر ملز کی مشتبہ ٹرانزیکشنز کے سلسلے میں 45 منٹ تک نیب ٹیم کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کروایا تھا۔

رپورٹ کے مطابق یوسف عباس اور مریم نواز نے تحقیقات میں شمولیت اختیار کی تھی لیکن سرمایہ کاری کرنے والے غیر ملکیوں کو پہچاننے اور رقم کے ذرائع بتانے سے قاصر رہے اور مریم نواز نوٹس میں بھجوائے سوالوں کے علاوہ کسی سوال کا جواب نہیں دے سکی تھیں۔

جس پر نیب نے مریم نواز کو 8 اگست کو دوبارہ طلب کرتے ہوئے ان سے چوہدری شوگر ملز میں شراکت داری کی تفصیلات، غیر ملکیوں، اماراتی شہری سعید سید بن جبر السویدی، برطانوی شہری شیخ ذکاؤ الدین، سعودی شہری ہانی احمد جمجون اور اماراتی شہری نصیر عبداللہ لوتا سے متعلق مالیاتی امور کی تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت کی تھی۔