پنجاب حکومت کا نوازشریف کی ضمانت میں توسیع سے انکار، سرخ جھنڈی دکھا دی۔

لاہور : (انمول نیوز) پنجاب کابینہ نے نوا زشریف کی ضمانت میں توسیع کی درخواست مستردکردی، کابینہ اراکین نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے کہا ہے کہ وہ اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے نوازشریف کو واپس لائیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پنجاب کابینہ کے ایک اجلاس میں اراکین کی اکثریت نے نواز شریف کی ضمانت میں توسیع کی درخواست کو مسترد کردیاہے۔کابینہ کا کہنا ہے کہ میڈیکل رپورٹس کی روشنی میں توسیع نہ کرنے کا فیصلہ کیاگیاہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق کابینہ ارکان نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اپنے اختیارات استعمال کریں اور نوازشریف کو واپس لائیں۔رپورٹس کے مطابق کابینہ کا یہ فیصلہ حتمی ہے۔وزیراعلیٰ کو انہیں واپس لانا ہوگا۔ اس صورتحال کے بعد شریف خاندان کواب مزید توسیع کیلیے عدالت سے رجوع کرنا پڑے گا۔

وزیرقانون پنجاب راجہ بشارت  نے کہا ہے کہ میڈیکل بورڈ نے نواز شریف کی رپورٹس پرعدم اطمینان کا اظہارکیا،کابینہ اجلاس میں نواز شریف کی ضمانت میں توسیع کا معاملہ زیر بحث آیا۔

راجہ بشارت نے صوبائی وزیر صحت کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ نواز شریف کسی اسپتال میں داخل نہیں ہوئے،نواز شریف کی ضمانت میں توسیع 16 ہفتے تک ہو گئی ہے،اس وقت تک لندن سے کوئی بھی خبر نہیں آئی کہ نواز شریف کا آپریشن ہوگا۔

راجہ بشارت نے کہا کہ میڈیکل بورڈ نے نواز شریف کی رپورٹس پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے جبکہ لندن میں موجود نواز شریف علاج کے لیے کسی اسپتال میں داخل نہیں ہوئے ہیں، اس وقت تک لندن سے کوئی بھی خبر نہیں آئی کہ نواز شریف کا آپریشن ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ قانونی، اخلاقی اور نہ ہی میڈیکل بنیادوں پر نواز شریف کی ضمانت میں توسیع ہو سکتی ہے، فیصلہ کیا ہے کہ وفاق کو لکھیں گے کہ پنجاب حکومت نواز شریف کی ضمانت میں توسیع نہیں دے گی۔

راجہ بشارت نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت نواز شریف کی ضمانت سے متعلق عدالت کو آگاہ کرے گی، ہم نے نواز شریف کو اشتہاری قرار دینے کے لیے عدالت سے رجوع کرنا ہے۔
پریس کانفرنس کے دوران وزیر صحت یاسمین راشد نے کہا کہ میں نے کبھی نہیں کہا تھا کہ نواز شریف کو علاج کے لیے بیرون ملک بھیجیں، کسی اسپتال میں نواز شریف کا داخل نہ ہونے کا مطلب ہے کہ کوئی خطرہ نہیں ہے۔

ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا کہ نوازشریف کی طرف سے آج تک ان کی تازہ ترین میڈیکل رپورٹ فراہم نہیں کی گئیں ہیں جبکہ نواز شریف کے معالجین نے بھی وہی رپورٹس بھیجیں جو یہاں سے کی گئی تھیں۔

یاد رہے کہ حکومتی اور لیگی کارکنوں کی ملاقات میں ڈاکٹر عدنان نے نوا شریف کی ضمانت میں توسیع کیلیے مزید دوہفتوں کا وقت مانگاتھا۔ڈاکٹر عدنان کا کہنا تھا کہ دوہفتوں بعد نوازشریف کو ہسپتال میں داخل کیاجائے گا۔