وزیرِ اعظم عمران خان نے مذاکراتی ٹیم کو استعفے کے علاوہ کوئی بھی جائز اور آئینی مطالبہ ماننے کی منظوری دے دی

وزیرِ اعظم عمران خان سے حکومتی مذاکراتی کمیٹی کی ملاقات ختم ہو گئی، ذرائع کہتے ہیں کہ وزیرِ اعظم نے مذاکراتی ٹیم کو مکمل اختیار دے دیا ہے۔

وزیرِ اعظم عمران خان نے مذاکراتی ٹیم کو استعفے کے علاوہ کوئی بھی جائز اور آئینی مطالبہ ماننے کی منظوری دے دی، انہوں نے ساتھ دینے پر چوہدری برادران کا شکریہ بھی ادا کیا ہے۔

اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمٰن کی قیادت میں جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) ف سمیت متحدہ اپوزیشن کا آزادی مارچ جاری ہے جس کی قیادت سے مذاکرات کے لیے قائم حکومتی کمیٹی کو وزیرِ اعظم کی جانب سے مکمل اختیار تفویض کر دیا گیا ہے

وزیرِ اعظم ہاؤس میں وزیرِ اعظم عمران خان کی صدارت میں حکومت کی مذاکراتی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی، اسپیکر قومی اسمبلی اسدقیصر، کمیٹی کے سربراہ و وزیرِ دفاع پرویز خٹک، مسلم لیگ ق کے رہنما اور پنجاب اسمبلی میں اسپیکر چوہدری پرویز الہٰی، وزیر مذہبی امور نور الحق قادری، سابق وزیرِ خزانہ اسد عمر اور وزیرِ تعلیم شفقت محمود بھی شریک ہوئے۔

کمیٹی نے اجلاس میں وزیرِ اعظم عمران خان کو گزشتہ روز مولانا فضل الرحمٰن اور اپوزیشن کی رہبر کمیٹی سے کی جانے والی ملاقات کے بارے میں بتایا۔

وزیرِ اعظم عمران خان نے تمام صورتِ حال پر تفصیلی گفتگو کے بعد کمیٹی کو اختیار تفویض کیا کہ آپ جو بھی فیصلہ کریں گے مجھے منظور ہو گا۔

ذرائع کے مطابق وزیرِ اعظم نے استعفے کے علاوہ کوئی بھی جائز اور آئینی مطالبہ ماننے کا مذاکراتی کمیٹی کو مکمل اختیار دے دیا ہے اور کہا ہے کہ اپوزیشن کے قانون سازی اور پارلیمنٹ کے حوالے سے مطالبات منظور ہوں گے تاہم ان کی میرے استعفے کی خواہش قبول نہیں ہو گی۔

وزیرِ اعظم عمران خان نے چوہدری برادران کا مذاکرات کے لیے اہم کردار ادا کرنے پر کا شکریہ بھی ادا کیا ہے۔