نواز شریف کی 8 ہفتوں کے لیے سزا معطل

اسلام آباد ہائی کورٹ نے العزیزیہ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی سزا  8 ہفتوں کےلیے معطل کردی ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں نواز شریف کی سزا معطلی کی درخواست پر جسٹس عامر فاروق اور محسن اختر کیانی نے فیصلہ سنایا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں نواز شریف کی طبی بنیادوں پر ان کی سزا معطلی کی درخواست منظور کی اور انہیں 20 ،20 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کی۔

فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ 8 ہفتوں میں نواز شریف کا علاج مکمل نہ ہونے پر صوبائی حکومت سے رابطہ کیا جائے۔

اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ نے العزیزیہ ریفرنس میں طبی بنیادوں پر سابق وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریف کی سزا معطلی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

عدالت نے العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کی مرکزی اپیل پر سماعت 25 نومبر تک ملتوی کر دی اور جج ویڈیو کیس سے متعلق متفرق درخواستوں پر نیب کو تحریری جواب داخل کرانے کا حکم دے دیا۔

دورانِ سماعت جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ عدالت کے سامنے اس وقت 4 آپشنز ہیں، معاملہ ایگزیکٹو کو بھجوائیں یا نیب کی تجویز پر ٹائم فریم کے تحت سزا معطل کریں۔

انہوں نے کہا کہ آپ کی مان لیں یا درخواست خارج کر دیں، شفاء اللّٰہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، ڈاکٹرز بھی صرف اپنی کوشش ہی کرتے ہیں۔

نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے نے ضمانت کا معاملہ ایگزیکٹوز کو بھجوانے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ایسی حکومت کو یہ معاملہ بھجوانا جو ہماری شدید مخالف ہے زیادہ مناسب نہ ہو گا۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومت تو ابھی تک اس معاملے پر کنفیوز ہیں۔

اس سے قبل کیس کی سماعت کے دوران نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کا اسلام آباد ہائی کورٹ کے روبرو کہنا تھا کہ سابق وزیر اعظم کی جان کو اسپتال میں ہونے کے باوجود خطرہ ہے، مجھے خدشہ ہے کہ ہم نواز شریف کو کہیں کھو نہ دیں۔

نہوں نے عدالت کو بتایا کہ نواز شریف کی حالت انتہائی تشویشناک ہے، میڈیکل بورڈ نے کل نواز شریف کی مکمل باڈی اسکین کا فیصلہ کیا ہے، نواز شریف کو جان بچانے والی ادویات دی گئیں، 8 دن میں ان کا 7 کلو وزن کم ہو گیا، میں نے آج تک کبھی نواز شریف کی اتنی تشویش ناک حالت نہیں دیکھی۔

ڈاکٹر عدنان نے یہ بھی بتایا کہ نواز شریف کی عمر 70 سال ہے اور ان کو عارضۂ قلب بھی لاحق ہے، نوازشریف کی جان کو اسپتال میں ہونے کے باوجود خطرہ ہے۔

سروسز اسپتال لاہورکے ایم ایس ڈاکٹر سلیم چیمہ نے عدالت کو بتایا کہ ایک بیماری کا علاج کرتے ہیں تو دوسری بیماری کھڑی ہوجاتی ہے، نواز شریف کی حالت اس وقت بھی خطرے میں ہے۔

انہوں نے بتایا کہ نواز شریف کے پلیٹ لیٹس بڑھانے کے لیے 5 دن کا کورس مکمل ہو گیا، اب نواز شریف کو قوتِ مدافعت بڑھانے اور ہڈیوں اور جوڑوں کے درد کے لیے انجکشن کا کورس شروع کرا دیا گیا ہے، نیفرولوجی کے ڈاکٹر نے بھی نواز شریف کا معائنہ کیا ہے۔

ڈاکٹر سلیم چیمہ نے بتایا کہ سابق وزیرِ اعظم کے گردوں کا یوریا کرٹینین کا ٹیسٹ کیا گیا، جس کے بعد نواز شریف کو یوریا کرٹینین کے لیے ادویات بھی دی گئیں۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ نواز شریف کو گردے کی شکایت پہلے سے ہے، 5 دن تک اسٹیرائیڈز اور شوگر کی ادویات کے استعمال کے بعد گردوں کا معائنہ ضروری ہو گیا تھا۔

ڈاکٹر سلیم چیمہ نے یہ بھی بتایا کہ میاں نواز شریف کا بیک وقت دل، گردوں، شوگر اور آئی ٹی پی کا علاج کیا جا رہا ہے، گزشتہ روز ان کے پلیٹ لیٹس کی تعداد 28 ہزار تک پہنچ گئی تھی۔

نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نے عدالت عالیہ کے روبرو میڈیکل بورڈ کی رپورٹ سے حوالہ جات پیش کیے۔

خواجہ حارث نے عدالت کو بتایا کہ فالج سے بچاؤ کے لیے پلیٹ لیٹس بڑھانا ضروری ہے، پلیٹ لیٹس فوری بڑھائیں تو ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، قدرتی طور پر نواز شریف کے پلیٹ لیٹس نہیں بڑھ رہے۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے انجائنا کی وجہ سے تمام بیماریوں کا علاج بیک وقت ممکن نہیں، 26 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق نواز شریف کا دل مکمل طور پر خون پمپ نہیں کر رہا۔

خواجہ حارث نے کہا کہ نواز شریف کو ایک چھت کے نیچے تمام میڈیکل سہولتیں ملنا ضروری ہیں، ہمیں ڈاکٹرز کی نیت و قابلیت پر شبہ نہیں مگر نتائج سے بورڈ خود مطمئن نہیں۔

انہوں نے کہا کہ سزا پر عملدرآمد کرانا ہے تو اس کے لیے نواز شریف کا صحت مند ہونا ضروری ہے، سابق وزیرِ اعظم کو ان کی مرضی کے ڈاکٹرز سے علاج کرانے کی اجازت ملنی چاہیے۔

نواز شریف کے وکیل نے مزید کہا کہ ان کی حالت بہتر ہوگئی تو وہ دوبارہ قید کی سزا کاٹ سکتے ہیں، نواز شریف کا علاج ہو رہا ہے، ڈاکٹرز کی بہت اچھی ٹیم علاج کر رہی ہے۔

خواجہ حارث نے یہ بھی کہا کہ ڈاکٹرز کی استدعا پر کیس پیر کے بجائے آج منگل کے لیے رکھا گیا تھا، ابھی تک بیماری کی وجوہات ہی معلوم نہیں ہو رہیں، ہم چاہتے ہیں کہ ایک ہی چھت کے نیچے علاج کی بہتر سہولتیں میسر آئیں۔

نوازشریف کی سزا معطلی کی درخواست کے کیس میں وزيرِ اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار ذاتی حیثیت میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش ہوئے۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ نواز شریف اسپتال میں ہیں، انہیں پنجاب حکومت پر اعتماد ہے، ہم نواز شریف کا بھر پور خیال رکھیں گے۔

عثمان بزدار نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ میں نے ایک سال میں آٹھ مرتبہ جیلوں کا دورہ کیا، ساڑھے 4 ہزار قیدیوں کو فائدہ دیا، جیل ریفارمز کے ذریعے جیلوں کا سسٹم ٹھیک کرنا چاہتے ہیں ۔

خواجہ حارث کے دلائل ختم ہونے کے بعد ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نیب جہانزیب بھروانہ روسٹرم پر آ گئے، انہوں نےکہا کہ سپریم کورٹ نے علاج کے لیے 6 ہفتوں کے لیے سزا معطل کی تھی، عدالتِ عظمیٰ نے سزا معطلی کے وقت کچھ پیرامیٹرز طے کیے تھے۔

جہانزیب بھروانہ نے مزید کہا کہ عدالت نے واضح کیا تھا کہ نواز شریف ان 6 ہفتوں میں ملک سے باہر نہیں جا سکتے، ان سے 6 ہفتوں میں پاکستان میں اپنی مرضی کا علاج کرانے کا کہا گیا تھا۔

عدالتِ عالیہ نے العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کی مرکزی اپیل پر سماعت 25 نومبر تک ملتوی کر دی جبکہ جج ویڈیو سے متعلق متفرق درخواستوں پر نیب کو تحریری جواب داخل کرانے کا حکم دیا۔

جسٹس عامر فاروق کا اس حوالے سے اپنے ریمارکس میں کہنا تھا کہ آج مرکزی اپیل اور دیگر درخواستیں بھی مقرر تھیں، فرض کریں اگر ویڈیو اسکینڈل کی وجہ سے فیصلہ کالعدم ہوتا ہے تو ایسی صورت میں صرف العزیزیہ نہیں فلیگ شپ کا فیصلہ بھی کالعدم ہو گا۔