ملیریا سے بچاؤ کی دنیا کی پہلی ویکسین کی آزمائش

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور دیگر کئی دوائی ساز اداروں کی طویل تحقیقات اور اربوں ڈالر کی لاگت کے بعد تیار کی گئی ملیریا سے بچاؤ کی پہلی ویکسین کی آزمائش شروع کردی گئی۔

خیال رہے کہ ملیریا کے لیے اب تک کوئی خصوصی ویکسین تیار نہیں کی گئی، تاہم اس سے ممکنہ تحفظ اور بچاؤ کے لیے دیگر دواؤں کی مدد لی جاتی ہے۔

پاکستان سمیت دنیا بھر میں سالانہ لاکھوں افراد اس مرض کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں، بخار کے سبب ہونے والی زیادہ تر ہلاکتیں ملیریا کی وجہ سے ہی ہوتی ہیں۔

عالمی ادارہ صحت نے گزشتہ برس ملیریا کے بچاؤ کے عالمی دن 25 اپریل پر ملیریا سے بچاؤ کے لیے ’آر ٹی ایس ایس’ نامی ویکسین تیار کرنے کا دعویٰ کیا تھا اور اعلان کیا تھا کہ اس کی آزمائش اپریل 2019 میں شروع کی جائے گی۔

اور اب عالمی ادارہ صحت نے اس کی آزمائش شروع کردی۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق ملیریا سے بچاؤ کے لیے تیار کی جانے والی دنیا کی پہلی ویکسین کی آزمائشی افریقی ملک ملاوا سے شروع کردی گئی۔

ویکسین کی آزمائش کا آغاز 25 اپریل کو ’عالمی یوم ملیریا‘ کے موقع پر کیا گیا اور پہلے ہی دن ہسپتالوں میں درجنوں مائیں اپنے بچوں کو لے کر پہنچیں۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق ملاوا کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں ملیریا سے سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوتی ہیں۔

ابتدائی طور پر اس ویکیسن کی آزمائش صرف ملاوا میں کی جائے گی، دوسرے مرحلے میں اس ویکسین کو قریبی ممالک گھانا اور کینیا میں بھی آزمایا جائے گا۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس ویکسین کی آزمائش کا پروگرام 4 سال تک جاری رہے گا اور اس دوران ہر 5 ماہ کے بچے سے لے کر 2 سال کے بچوں کو سالانہ 4 بار ویکسین دی جائے گی۔

ماہرین کے مطابق بچوں کو یہ ویکسین 4 بار دی جائے گی، شروع میں بچوں کو اس ویکسین کے ہر تین ماہ بعد تین ڈوز، جب کہ آخری ڈوز 18 ماہ بعد دی جائے گی۔