ملائیشیا کی نظر اپنے اگلے وزیر اعظم پر ……مہاتیر محمد نے استعفیٰ بادشاہ کو بھجوا دیا

مہاتیر محمد کا استعفی ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یہ افواہیں گرم ہیں کہ وہ اپنے نامزد جانشین انور ابراہیم کے بغیر ایک نیا سیاسی اتحاد تشکیل دینے کا سوچ رہے ہیں۔

ملائیشین وزیراعظم کے آفس کا کہنا ہے کہ مہاتیر محمد کا استعفی مقامی وقت کے مطابق ایک بجے ملائیشیا کے بادشاہ کو بھیجا گیا۔ وزیراعظم آفس سے جاری ہونے والے بیان میں اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔

مہاتیر محمد سنہ 2018 میں ملائیشیا کے اس وقت کے وزیراعظم نجیب رزاق کو ہرا کر اقتدار میں آئے تھے۔ نجیب رزاق پر سرکاری فنڈ میں اربوں ڈالر کے غبن کے الزامات تھے۔

یہ واضح نہیں ہے کہ اگلے وزیراعظم کون ہوں گے اور آیا اب نئے انتخابات منعقد کروائے جائیں گے۔

بی بی سی کے جنوب مشرقی ایشیا کے نمائندے جوناتھن ہیڈ کہتے ہیں کہ مہاتیر محمد کا استعفی ملائیشیا میں جاری شدید سیاسی رسہ کشی کے بعد سامنے آیا ہے۔

مہاتیر محمد گذشتہ کئی دہائیوں سے ملائیشیا کی سیاست کے اہم کھلاڑی رہے ہیں۔ وہ سنہ 1981 سے سنہ 2003 تک ملک کے وزیر اعظم رہے۔ وہ طویل عرصے تک اقتدار میں رہنے والی سیاسی جماعت بی این کے حصہ تھے۔

انور ابراہیم مہاتیر محمد کے نائب وزیراعظم تھے مگر ان کے تعلقات سنہ 1998 میں اس وقت کشیدہ ہوئے جب لیڈرشپ کے جھگڑے پر انھیں (انور ابراہیم) معذول کر دیا گیا۔

بعدازاں بدعنوانی اور لواطت (غیر فطری عمل) کے الزامات پر انور ابراہیم کو جیل بھیج دیا گیا۔ بڑے پیمانے پر ان الزامات کو سیاسی بنیادوں پر لگائے جانے والے الزامات کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

سنہ 2018 میں مہاتیر محمد نے ملائیشیا کو اس وقت حیرت زدہ کر دیا جب انھیں نے انور ابراہیم کے ساتھ اتحاد تشکیل دینے اور حزبِ اختلاف کے سیاسی اتحاد ’پاکاتان ہراپن‘ سے ہاتھ ملانے کا اعلان کیا۔

مہاتیر کا کہنا تھا کہ انھوں نے ایسا نجیب رزاق کی حکومت کو فارغ کرنے کے لیے کیا۔ نجیب کی حکومت کو بدعنوانی کے سکینڈل کا سامنا تھا۔

مہاتیر محمد اور انور ابراہیم کا سیاسی اتحاد جیت گیا اور اس کے بعد مہاتیر نے انور ابراہیم کو اپنا جانشین (نائب وزیراعظم) قرار دیتے ہوئے اقتدار وقت کے ساتھ ان کے ہاتھ دینے کا اعلان کیا۔

تاہم مہاتیر محمد نے بارہا پوچھے گئے اس سوال کا جواب کبھی نہیں دیا کہ وہ اقتدار اپنے نائب کو کب منتقل کریں گے۔ یہی وجہ تھی کہ حزب اختلاف کے اس اتحاد میں دراڑیں پڑ گئیں۔