مدارس سے متعلق بات کرنا فوج کا نہیں حکومت کا کام ہے، مولانا فضل الرحمن

اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کا کہنا ہے کہ مدارس سے متعلق بات کرنا فوج کا نہیں حکومت کا کام ہے۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ حکومتی معاملات کو فوج کا نمائندہ پیش کررہا ہے اور دینی مدارس سے متعلق بات کرنا فوج کا کام نہیں ہے۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ پہلے دن سے کہہ رہے ہیں کہ اصل حکومت فوج کی ہے اور لگتا ہے فیصلوں کا محور پارلیمنٹ نہیں جی ایچ کیو ہے۔ محسوس ہورہا ہے کہ آئی ایم ایف کا وفد آچکا ہے اور قرضے لینے کے لیے گھٹیا انداز اختیار کرنا نہیں چاہیے۔

انکا کہنا تھا کہ مدارس سے متعلق کئی باتیں کی گئیں اور دینی مدارس کو محکمہ تعلیم کے ماتحت لایا جارہا ہے اور آپ کہہ رہے ہیں کہ مدارس کو محکمہ تعلیم کے تحت لایا جائے گا۔ دینی مدارس کا نصاب طے کرنے والے آپ کون ہوتے ہیں۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ دینی مدارس انگریزوں کے رویے سے وجود میں آئے اور مدارس کے علوم کے تحفظ کے کردار کو انگریز ختم کرنا چاہتا تھا۔ امریکا اور مغربی قوتیں دینی علوم کے تحفظ کو ختم کرنا چاہتی ہے۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ مدارس کے تحفظ کے لیے جنگ لڑنا جانتے ہیں اور مدارس میں انتہا پسندی ہے، یانصاب میں؟ ہم نے حکومت کے ساتھ بیٹھ کر دینی مدارس کا نصاب طے کیا ہے اور ہم نے حکومت کےساتھ بیٹھ کر رجسٹریشن کی شرائط طے کی ہیں۔

انکا کہنا تھا کہ ہم نے حکومت کے ساتھ بیٹھ کر مدارس کی مالیتی سسٹم کو طے کیا اور 2005 میں مدارس سے متعلق حکومت کے ساتھ معاہدہ ہوا۔ 100 مدارس کے لیے 30 ہزار مدارس کو بدنام کیا جارہا ہے جبکہ ہم ہمیشہ ریاست اور آئین کے ساتھ کھڑے ہیں۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ ہم انتہا پسند نہیں، سلجھے ہوئے اور سنجیدہ لوگ ہیں جب کہ انتہا پسندی کا تعلق مدارس سے نہیں، یہ معاشرتی مرض ہے۔ ظالمانہ رویے پر پردہ ڈالنے کے لیے ملبہ مدارس پر ڈالا جارہا ہے اور اپیل کرتا ہوں کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ بند کیا جائے۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ آج پریس کانفرنس میں حکومت کا یک طرفہ فیصلہ سنایا گیا اور حکومت کے ساتھ مدارس سے متعلق مذاکرات کے لیے تیار نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کے جھانسوں میں آنے والے نہیں ہیں اور طالبان اسلام کی بات کرتے تھے، قوم پرستی کی نہیں۔