‘عطائی ڈاکٹر کے غلط انجکشن’ سے 8 سالہ بچی جاں بحق

کراچی میں مبینہ طور پر غلط انجکشن لگنے کا ایک اور کیس سامنے آگیا، جس کی وجہ سے 8 سالہ بچی جان کی بازی ہار گئی۔

پولیس کے مطابق حالیہ واقعہ کراچی کے علاقے گلشن اقبال 13 ڈی ون کے عدنان کلینک میں پیش آیا۔

پولیس کے مطابق جاں بحق ہونے والی بچی کی شناخت صبانور ولد ظفر اقبال کے نام سے ہوئی جس کے والد رکشہ ڈرائیور ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ بچی کو سانس لینے میں تکلیف ہو رہی تھی جس پر اس کے والد نے قریبی کلینک منتقل کیا جہاں مبینہ طور پر عطائی ڈاکٹر نے صبا نور کو جیسے ہی انجکشن لگایا وہ دم توڑ گئی۔

پولیس کے مطابق بچی کے جاں بحق ہونے کی اطلاع پولیس کو ان کے والد نے دی تھی۔

پولیس کا کہنا تھا کہ گزشتہ رات پیش آنے والے واقعے کے بعد مبینہ طور پر عطائی ڈاکٹر اپنا کلینک چھوڑ کر فرار ہوگیا تھا۔

بعد ازاں پولیس نے ملزم کو رات بھر چھاپہ مار کارروائیوں کے بعد گرفتار کیا، پولیس کے مطابق عدنان نامی عطائی ڈاکٹر کو ایم بی بی ایس کا مطلب تک معلوم نہیں۔

اس سے قبل 6 اپریل کو قیصر علی نامی شخص اپنی 9 ماہ کی بیٹی نشوا کو طبیعت خراب ہونے پر دارالصحت ہسپتال لائے تھے۔

غلط انجیکشن لگانے کا یہ پہلا واقعہ دارالصحت ہسپتال میں 7 اپریل کو پیش آیا تھا، جہاں ایک ملازم نے 9 ماہ کی نشوا کو غلط انجیکشن لگایا، جس سے اس کی حالت بگڑ گئی اور ہاتھ پاؤں ٹیڑھے ہوگئے جبکہ 71 فیصد دماغ مفلوج ہوچکا تھا۔

واقعے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں بچی کے والد نے روتے ہوئے روداد سنائی تھی کہ ان کی بیٹی کو دست کی شکایت پر ہسپتال لایا گیا تھا، جہاں ہسپتال کے ملازم نے اسے وہ انجیکشن ایک منٹ میں لگا دیا جو انسانی جسم میں 24 گھنٹے میں ڈرپ کے ذریعے دیا جاتا ہے۔

بعد ازاں 22 اپریل 2019 کو غلط انجیکشن کا شکار ہونے والی 9 ماہ کی بچی نشوا کئی روز تک زیر علاج رہنے کے بعد زندگی کی بازی ہار گئی تھی۔