صوبائی خودمختاری کے نام پر اجارہ داری قبول نہیں کریں گے

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان نے صوبائی حکمراں جماعت پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی خود مختاری کے نام پر اجارہ داری قبول نہیں کریں گے۔

کراچی میں منعقدہ جلسے سے ایم کیو ایم کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، میئر کراچی وسیم اختر، عامرخان، نسرین جلیل، خواجہ اظہار الحسن اور فیصل سبزواری سمیت دیگر رہنماؤں سے خطاب کیا۔

ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے پاکستان بنانے والوں کو نوکریوں سے یک جنبش قلم نکال دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ مہاجروں نے کراچی میں صنعتیں لگائی تھیں اور منافع بخش ادارے بنائے تھے لیکن ان اداروں پر قومیانے کے نام پر قبضہ کرلیا گیا۔

ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ اب مسافتوں کی تھکن لمحوں کی مہمان ہے، پاکستان ہمارے ہاتھوں بنا تھا اور ہمارے ہاتھوں چلے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ریاست کو مہاجروں کو اختیارات دینے ہوں گے کیونکہ مہاجروں نے ملک بنایا تھا اور ان کے بغیر یہ ملک چل نہیں سکتا۔

جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سینئر رہنما عامر خان نے کہا کہ اب فیصلہ ہوگا کہ آدھا سندھ تمہارا اور آدھا سندھ ہمارا ہوگا۔

عامر خان نے کہا کہ صوبائی خودمختاری کے نام پر اجارہ داری قبول نہیں کریں گے، 1947سے 1970 تک پاکستان میں کوئی صوبہ نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ کہا جاتا ہے کہ سندھ جغرافیائی اکائی تھا لیکن سندھ کبھی جغرافیائی اکائی نہیں تھا، جنرل یحیٰ نے سندھ کو صوبہ بنایا۔

میئر کراچی وسیم اختر نے کہا کہ سندھ حکومت نے تمام محکمے تباہی کے دہانے پر پہنچا دیے ہیں، واٹر اینڈ سیوریج بورڈ سمیت کچرا اٹھانے کےتمام معاملات سندھ حکومت دیکھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی پرخصوصی توجہ دینا ضروری ہے لیکن جب سب کام عدالتوں کو ہی کرنا ہے تو وزیراعلیٰ کس کام کے لیے ہیں۔

پاکستان پیپلزپارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کی خراب کارکردگی کے سبب عدلیہ سے درخواست کی جبکہ کراچی کے مسائل کے حل کے لیے ہر جماعت کے پاس جا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بلدیاتی نمائندوں سے تمام اختیارات چھین لیے گئے ہیں۔

‘جعلی انتخابی نتائج دکھائے گئے’

فیصل سبزواری نے کہا کہ انتخابات میں جعلی نتائج دکھا کر بتایا گیا کہ ایم کیوایم کراچی سے صاف ہوگئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے کراچی کی بھلائی کے لیے ایم کیوایم سے معاہدے کئے اور اسی طرح حیدر آباد یونیورسٹی کا قیام بھی جلد عمل میں لایا جائے گا۔م

فیصل سبزواری کا کہنا تھا کہ انتخابات میں نتائج تبدیل کیے گئے، مردم شماری میں کراچی شہر کی آبادی آدھی کردی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں جمہوریت نہیں ہے، جعلی حکومت مسلط ہے اور 18 ویں ترمیم پر اس کی روح کے مطابق مکمل عمل کیا جائے۔

خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ وفاق کراچی سے ٹیکس لے تو سکتا ہے لیکن دے نہیں سکتا،صوبائی حکومت کے ساتھ ساتھ وفاق نے بھی کراچی سے زیادتی کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں ترقیاتی کام پیپلزپارٹی کی سازشوں کی وجہ سے نہیں ہورہے جبکہ 18ویں ترمیم وفاق کو کراچی میں کام کرنے سے نہیں روکتی لیکن سندھ حکومت کراچی کے لیے کچھ کرنا نہیں چاہتی۔

انتخابی نتائج کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آنےوالےانتخابات میں فارم 45 جاری کریں گے اور ساری نشستیں ایم کیوایم کو دیں گے۔