سابق وزیراعظم نوازشریف کی صاحبزادی مریم نواز کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ ، کل سنا یا جا ئے گا

لاہور ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم نوازشریف کی صاحبزادی مریم نواز کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے،جو کہ کل سنا یا جا ئے گا۔

تفصیلات کے مطا بق لاہور ہائی کورٹ میں جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کی درخواست ضمانت پر کیس کی سماعت کی۔

ذرائع کے مطا بق درخواست گزار اور نیب کے وکلا کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا جو کہ کل سنا یا جا ئےگا۔

مسلم لیگ ن کی نائب صدرمریم نواز کے وکیل امجد پرویز ایڈووکیٹ نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ مریم نواز ایک خاتون ہیں؟ کیا آپ انکار کر سکتے ہیں؟ جسٹس علی باقر کے استفسار پر کمرہ عدالت میں قہقہے گونج اٹھے۔

اعظم نذیر تارڑ ایڈووکیٹ نے کہا کہ یہ صرف انفارمیشن دی تھی جس پر وکیل نیب نے کہا کہ نہیں آپ نے خاتون ہونے پر زور دیا تھا، فریال تالپورکو خاتون ہونے کی بنیاد پر ضمانت پر رہائی کی درخواست مسترد ہوئی ہے، فیصلہ موجود ہے۔

تفتیشی افسر نےعدالت کو بتایا کہ  مریم نواز اور یوسف عباس کے اکاؤنٹس میں 23 کروڑ روپے منتقل ہوئے ہیں جس کی انہوں نے کوئی وضاحت پیش نہیں کی،یہ رقم فیصل میمن نے دبئی سے بھیجی تھی جوچودھری شوگر ملز میں منی لانڈرنگ کیلئے استعمال ہوئی۔

عدالت نے درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی۔

واضح رہےکہ 8 اگست کو نیب نے چوہدری شوگرملز منی لانڈرنگ کیس میں مریم نوا ز کو تفتیش کے لئے بلایا گیا تھا لیکن وہ نیب دفتر میں پیش ہونے کے بجائے والد سے ملنے کوٹ لکھپت جیل چلی گئیں تھیں، تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش نہ ہونے پر نیب ٹیم نے انھیں یوسف عباس کو گرفتار کرلیا تھا۔

ذرائع کے مطابق نیب کے تفتیشی افسر کی جانب سے عدالت میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ مریم نواز، نوازشریف اور شریک ملزموں نے 2000ملین کی منی لانڈرنگ کی، ملزمان کےاثاثے ذرائع آمدن سے مطابقت نہیں رکھتے۔