دنیا کا پہلا فائیو جی بٹن لیس کانسیپٹ اسمارٹ فون

فوٹو بشکریہ ویوو

ویوو کا یہ کانسیپٹ فون ہوسکتا ہے کہ اس شکل میں صارفین کے لیے دستیاب نہ ہو مگر یہ کمپنی اسے اگلے ماہ موبائل ورلڈ کانگریس میں لے کر جانے والی ہے جہاں اس کے دیگر فیچرز کی تفصیلات سامنے آئیں گی۔

گزشتہ سال کی طرح ایپکس فون کی طرح میں اسکرین ٹو باڈی ریشو حیران کن حد تک کم ہے اور بیزل نہ ہونے کے برابر ہیں۔

اس میں کوئی بٹن یا پورٹ بھی نہیں یعنی ہیڈفون جیک تو غائب ہے ہی اس کے ساتھ ساتھ یو ایس بی سی پورٹ بھی نہیں اور اس کی چارجنگ بیک پر نصب مقناطیسی کنکٹر سے ممکن ہوگا، جسے ڈیٹا ٹرانسفر کے لیے بھی استعمال کیا جائے گا۔

ویوو کا کوئی فون آج تک وائرلیس چارجنگ فیچر کے ساتھ نہیں آیا اور ایپکس 2019 کے لیے بھی کمپنی نے پالیسی تبدیل نہیں کی۔

فوٹو بشکریہ ویوو

اس فون میں کوالکوم کا ایکس 50 فائیو جی موڈیم استعمال کیا گیا ہے اور کمپنی کا کہنا ہے کہ ایک نئی تیکنیک کے ذریعے مدربورڈ اسپیس کو 20 فیصد بڑھایا گیا ہے تاکہ فائیو جی کے لیے ضروری پرزوں کی جگہ بن سکے اور ڈیزائن بھی متاثر نہ ہو۔

اس فون میں کوالکوم اسنیپ ڈراگون 855 پراسیسر، 256 جی بی اسٹوریج اور 12 جی بی ریم دی گئی ہے۔

فوٹو بشکریہ ویوو

اس فون کے بیک پر ڈوئل کیمرہ سیٹ اپ ہے تاہم کمپنی نے اس کی تفصیلات فراہم نہیں کیں مگر فرنٹ پر کوئی کیمرہ نہیں۔

اس فون کا ایک اور خاص فیچر ان ڈسپلے فنگرپرنٹ سنسر کے لیے مختص جگہ کو بڑھانا ہے اور کمپنی کا دعویٰ ہے لگ بھگ پوری اسکرین پر فنگرپرنٹ اسکیننگ ممکن ہے۔

ایک اور ٹیکنالوجی باڈی ساﺅنڈ کاسٹنگ ہے جس سے اسکرین ہی اسپیکر کا کام کرسکے گی اور گرل کی ضرورت ختم ہوگئی ہے، تاہم نچلے حصے میں مائیکروفون کے لیے جگہ موجود ہے۔