خیبرپختونخوا حکومت کا نیا کارنامہ۔ برطانوی امداد پھر سے جعلی سکولوں کو دے دی

ایک انکوائری رپورٹ کے مطابق کچھ ایسے سکولوں کو فنڈز دیے گئے ہیں جن کا کوئی وجود نہیں ہے، یا ایسے طلبہ کو سکیم کے تحت وظیفہ دیا گیا ہے جو جعلی انرولمنٹ کے تحت رجسٹرڈ تھے۔

بر طانوی ادارے ڈیپارٹمنٹ فار انٹرنیشنل ڈولپمنٹ (ڈیفیڈ) کی جانب سے خیبر پختونخوا میں تعلیم کے فروغ کے لیے تعلیمی واؤچر سکیم پراجیکٹ کے فنڈز ایسے سکولوں کو دوبارہ جاری ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جنہیں حکومتی ادارے پہلے سے ہی ’گھوسٹ سکول‘ قرار دے چکے ہیں۔

یہ معاملہ 2019 میں اس وقت سامنے آیا جب اس پراجیکٹ کو چلانے والے ادارے ایلیمنٹری ایجوکیشن فاؤنڈیشن نے ایک انکوائری رپورٹ صوبائی حکومت کو پیش کی، جس میں کیا گہا کہ اس پراجیکٹ کے تحت کچھ ایسے سکولوں کو فنڈز دیے گئے ہیں جن کا کوئی وجود نہیں ہے، یا ایسے طلبہ کو سکیم کے تحت وظیفہ دیا گیا ہے جو جعلی انرولمنٹ کے تحت رجسٹرڈ تھے۔

اس سکیم کے تحت خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں سکول کے ایسے بچوں کو پرائمری سطح پر ماہانہ 500 روپے، مڈل سکول کے بچوں کو 600 روپے جبکہ ہائی سکول کے بچوں کو 800 روپے دیے جاتے ہیں، جن کے گھر سے ایک کلومیٹر کے فاصلے پر کوئی سرکاری سکول نہ ہو۔